بھارت :شہری حقوق کی تنظیم کا مغربی بنگال میںمسلمانوں کے خلاف تشدد پر اظہارتشویش

نئی دہلی:بھارت میں شہری حقوق کی معروفتنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے مغربی بنگال میں ریاستی اسمبلی کے انتخابی نتائج کے بعد چار دنوں میں تشدد کے 34 واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں مسلمانوں، ترنمول کانگریس کے حامیوں اور مویشی منڈیوں کو نشانہ بنا نے کے لئے منظم حملے کئے گئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نئی دہلی میں قائم تنظیم نے جس میں وکلائ، ریٹائرڈ جج، سماجی کارکن، انسانی حقوق کے محافظ، صحافی، محقق، ماہرین تعلیم اور طلباءشامل ہیں، اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ تشدد 4 مئی کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد شروع ہوا اور 7 مئی تک جاری رہا۔رپورٹ میں کہاگیاکہ حملوں میں بی جے پی کے کارکن ملوث ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال کا فن تعمیرجوو اپنی ہم آہنگی اور مذہبی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے، خطرے میں ہے اوریہ رپورٹ اس خطرے کی سنگینی کا اندازہ لگانے کی کوشش ہے۔رپورٹ کے مطابق تشدد میں کم از کم 50 مسلمانوں کو جسمانی یا دیگر نقصان پہنچا جبکہ 54 جائیدادوں پر حملے کئے گئے۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ جائیدادوں پر حملوں کے 19 ،ہراسانی کے14 ,،معاشی اور کاروباری بائیکاٹ کے 10اور جانوروں کی یا نقل و حمل پر حملوں کے5 واقعات پیش آئے ۔اس کے علاوہ مسماری کے چار، بلڈوزر سے متعلق تین واقعات، ایک قتل اور دو جسمانی حملوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔متعدد اضلاع سے تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، کوچ بہار اور شمالی 24 پرگنہ اضلاع میں سب سے زیادہ یعنی سات سات واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کے بعد کولکتہ میٹرو اور جنوبی 24 پرگنہ میں ایک ایک، ہاوڑہ چار،مرشد آباد تین ،مالدہ میں دواور بیربھوم میں تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مختلف علاقوں میں تشدد کا پھیلاو¿ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نفرت انگیز ماحول کو ایک منظم اندار میں قائم کیاگیا۔جن 54 املاک پر حملہ کیا گیا ان میں مسلمانوں کے گھروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ۔حملوں کی زد میں آنے والی املاک میں 17 گھر، آٹھ دکانیں اور ہوٹل اور سات دیگر تجارتی مراکز اور کم از کم 10 مساجد شامل ہیں۔آٹھ واقعات میں ترنمول کانگریس کے دفاتر اور رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جن میں مسلمان پارٹی رہنماو¿ں پر حملے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تین مویشی منڈیوں اور سڑکوں یا مسلمانوں کے نام سے منسوب تین اداروں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر ترنمول کانگریس نے ریاست میں بی جے پی کی جیت کے بعد بڑے پیمانے پر تشدد کے لیے بی جے پی کارکنوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔





