بھارت دنیا کے انتہائی غیر مساوی ممالک میں شامل ، محض1فیصد لوگوں کے پاس 40فیصد قومی دولت

نئی دہلی: عالمی عدم مساوات 2026کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دنیا کی امیر ترین 10فیصد آبادی کی آمدنی باقی 90 فیصد لوگوں کی کل آمدنی سے بھی زیادہ ہے جبکہ بھارت میں 10فیصد لوگ کل قومی آمدنی کا 58فیصد کماتے ہیں اور نچلی طبقے کے 50فیصد لوگ صرف 15فیصد کماتے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”دی وائر ” میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی ممالک میں سے ایک ہے اور اس صورتحال میں برسوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں 10فیصد لوگ کل قومی آمدنی کا 58فیصد کماتے ہیں جبکہ نیچے کے 50فیصدکو صرف 15فیصد ملتا ہے۔ دولت کی عدم مساوات اس سے بھی زیادہ ہے۔ امیر ترین 10فیصدلوگ کل دولت کے 65فیصدکے مالک ہیں اور سر فہرست 1فیصد کے پاس تقریبا 40فیصد حصہ ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس صورتحال کو بدلا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کے لیے سیاسی طور پرقوت ارادی اور عالمی کوششیں ہوں۔رپورٹ میں کہاگیا کہ عدم مساوات ایک سیاسی فیصلہ ہے، یہ ہماری پالیسیوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے کا نتیجہ ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے نتیجے میں پھیلتی تقسیم، کمزور جمہوریت اور موسمیاتی بحران ہیں جس کا بوجھ سب سے زیادہ ان پر پڑتا ہے جو اس کے لئے سب سے کم ذمہ دارہیں۔رپورٹ میں کہاگیاکہ دنیا بھر میں صرف 60,000افراد کے پاس دنیا کی نصف آبادی یعنی تقریبا 4.1ارب لوگوں کی دولت سے تین گنا زیادہ دولت ہے۔ دنیا کی کل آبادی تقریبا 8.2 ارب ہے۔یہ اعدادوشمار عالمی عدم مساوات 2026کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جسے پیرس میں واقع عالمی عدم مساوات لیب کے ماہر معاشیات لوکاس چانسل، ریکارڈو گومز کیریرا، روویدا موشریف اور تھامس پیکیٹی نے مرتب کیا ہے۔رپورٹ میں نہ صرف دولت کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ عدم مساوات دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔





