طویل قید بھی کشمیری نوجوان کو کالے قانون کے تحت درج مقدمے میں ضمانت نہ دلا سکی
این آئی اے عدالت کی طرف سے 8سال سے زیر حراست ریاض احمد کی ضمانت کی درخواست مسترد

جموں:غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے تقریبا آٹھ برس سے زیر حراست کشمیری ریاض احمد ننگرو کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پریم ساگر نے الزامات کی سنگینی طویل قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کاحوالہ دیتے ہوئے ننگرو کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ، جو ستمبر 2018 سے جھجر کوٹلی مقدمے میں قید ہیں۔ریاض احمد ننگرو پر رنبیر پینل کوڈ، آرمز ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے، ایکسپلوسیو سبسٹنسز ایکٹ اور انڈین وائرلیس ٹیلی گرافک ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔وکیل دفاع نے موقف اختیار کیا کہ ننگرو 12 ستمبر 2018 سے زیر حراست ہیں، جبکہ مقدمے کی چارج شیٹ میں 215گواہ اور 299دستاویزی شواہد شامل ہیں، جن میں سے اب تک صرف چند گواہوں کے بیانات ہی قلمبند کیے گئے ہیں۔ انہوں نے طویل تاخیر اور تقریبا آٹھ سالہ قید کو ضمانت کے لیے کافی قرار دیا۔این آئی اے نے یو اے پی اے کی دفعہ 43ڈی (5)کے تحت ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ رہائی کی صورت میں ملزم فرار ، گواہوں پر اثرانداز ہو سکتا یا شواہد میں ردوبدل کر سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مواد اور گواہوں کے بیانات ضمانت کے مرحلے پر یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ ننگرو کے خلاف الزامات بادی النظر میں درست ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یو اے پی اے میں موجود قانونی پابندیاں موجودہ حالات میں ضمانت دینے سے روکتی ہیں۔






