- کیا بھارت کے سر سے زعمِ برتری کا بھوت اتر گیا؟
ارشد میر

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما پرتھوی راج چوہان نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت آپریشن سندور کے پہلے دن ہی جنگ ہار گیا تھا۔پرتھوی راج چوہان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 7 مئی کو آدھے گھنٹے کی فضائی لڑائی میں ہمارے جہازوں کو مار گرایا گیا اور ہم مکمل طور پر یہ جنگ ہار گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے دن کی لڑائی کے بعد بھارتی ائیر فورس کے جہازوں کو گراؤنڈ کر دیا گیا تھا کیونکہ لڑائی پر بھیجنے کی صورت میں انہیں پاکستان ائیر فورس کی جانب سے مار گرائے جانے کا خدشہ تھا۔انھوں نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے آپریشن سندور کے دوران دیکھا کہ فوج نے ایک کلومیٹر بھی نقل و حرکت نہیں کی، دو تین دن میں جو کچھ ہوا وہ صرف فضائی جنگ اور میزائل وار تھی اورمستقبل میں بھی اسی طرح جنگیں لڑی جائیں گی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت حال میں کیا واقعی ہمیں 12 لاکھ فوجیوں کی فوج رکھنے کی ضرورت ہے یا ہم ان سے کوئی اور کام کروا سکتے ہیں؟ انھوں نے اپنے اس بیان کے لیے معافی ماننے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر قائم ہوں ،میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔
دوسری طرف برطانوی دفاعی جریدے ”کی ائیرومیگزین ”نے بھی اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں مودی حکومت اور بھارتی فوج کی نام نہاد ساکھ کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی 52منٹ کی فضائی جنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کے 4جدید ترین رافیل لڑاکا طیارے تباہ ہوئےجن کے سیریل نمبرز BS001، BS021، BS022 اور BS027 تھے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ان چاروں طیاروں کے سیریل نمبرز کے ساتھ کوئی واضح تصاویر پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ملٹی ڈومین آپریشنز نے بھارتی فضائیہ کو مفلوج اور بھارتی پائلٹس کوبے بس کردیا ۔ بھارتی فضائیہ کے مجموعی نقصانات میں4رافیل، مگ 29، ایس یو 30اور ہیرون ڈرون شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق10مئی کو JF-17Cبلاک3نے اودھمپور میں بھارتی فضائی دفاعی نظام S-400کو ناکارہ بنا کر تباہ کیا جبکہ پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے برنالا میں واقع بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر کے بھارتی فضائیہ کو ایک اور شدید دھچکا پہنچایا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی سائبر یونٹس نے بھارت کے تقریبا 96فیصد سوشل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل نظام کو مفلوج کیا اور یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی فضائیہ نے سائبر اور روایتی عسکری اقدامات کو یکجا کر کے موثر کارروائی کی۔
یاد رہے کہ برطانیہ کے عالمی سطح پر ممتاز حیثیت رکھنے والے خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی 2 اگست کی ایک رپورٹ میں اپنی نوعیت کی اس منفرد فضائی جنگ کے حوالہ سے کہا تھا کہ سربراہ پاک فضائیہ ظہیربابرسدھو نےخاص طور پربھارت کے رافیل طیاروں کونشانہ بنانےکاحکم دیا تھا۔ رائٹرز نے اس رپورٹ میں بھارتی اور پاکستانی آفیشلز سے انٹرویوز کی سیریز کے بعد نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مسئلہ رافیل کی پرفارمنس کا نہیں بلکہ بھارتی انٹیلی جنس کی ناکامی اور مجموعی طور بھارت کی دفاعی صلاحیت کے فقدان کا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف چن چن کر بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا بلکہ دلی کے سسٹمز پر بھی سائبر اٹیک کیا۔
لندن کے تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے فضائی جنگوں کے امور کے ماہر جسٹن برونک کا کہنا ہے کہ بھارتیوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ نشانہ بنائے جاسکتے ہیں۔
بھارت نے پہلے اپنے طیاروں اور ایس 400 دفاعی نظام کی تباہی کو ماننے سے سرے سے ہی انکار کیا تھا۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ دنیا اسکی گواہی دے رہی ہے تو اس کے فوجی سربراہان نے موہوم طریقے سے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں میں نقصانات ہوتے ہیں۔ جنگ کے بعد جب بھارت نے دیکھا کہ میڈیا کے سامنے نمائش کے طور پر پیش کی جانے والی چو ٹی رینک کی خواتین افسران گودی میڈیا سے وابستہ چنیدہ رپورٹرز کو لائے جانے کے باوجود پر اعتماد طریقے سے سوالات کے جوابات نہیں دے پارہیں تو تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو لایا گیا مگر وہاں بھی بھارتی فوج کے آپریشنل چیف طیاروں کی تباہی کو جھٹلا نہیں پائے، پھر 31 مئی کو سنگا پور میں بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان ایشیائی دفاعی فورم’ شنگریلا ڈائیلاگ’ کے موقع پر بلوم برگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بری طرح پھنس گئے اور پہلی سانس میں طیاروں کی تباہی سے سرے سےنکار کیا اور دسری سانس میں کہا کہ اہم یہ نہیں کہ یہ طیارے گرے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ وہ کیوں گرے اور یہ کہ ان کے گرنے کے بعد ہم نے کیا کیا؟ اور پھر 29 جون کو بھارت کو پھر شرمندگی اٹھانا پڑی جب ملائشیا میں اسکے دفاعی اتاشی اور نیول آفیسر کیپٹن شیو کمار کی ایک ویڈیو عالمی میڈیا کی زینت بن گئی جس میں وہ طیاروں کی تباہی کا اعتراف کررہا ہے۔ یہ’ فضائی طاقت کے تناظر میں پاکستان–بھارت فضائی معرکے کا تجزیہ اور انڈونیشیا کی پیشگی حکمتِ عملی’ کے موضوع پر 10 جون کو بند کمرے میں ہوئے ایک سمینار کی ویڈیو تھی جس میں شیو کمار نےتسلیم کیا ہے کہ جنگ مئی میں بھارتی فضائیہ کو متعدد جنگی طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا۔
مزے کی بات یہ کہ جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ” میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ہم نے بہت زیادہ طیارے کھوئے، لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہم نے کچھ طیارے ضرور کھوئے ہیں” ۔اسی وقت ان کے عقب میں چل رہی سلائڈز میں دکھایا جارہا تھا کہ جنگ میں بھارتی فضائیہ کو تین رافیل جنگی طیاروں، ایک ایس یو-30 ایم کے آئی اور ایک مِگ-29 کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔اس پر مبصرین نے کہا کہ بند کمرے میں انڈونیشی دفاعی ماہرین اور فضائیہ کے افسران کے سامنے 35 منٹ کی اس بریفنگ میں بھارتی افسر کے دیے گئے اس بیان کو باقاعدہ اعتراف اور ایسی حقیقت سے پردہ اٹھنے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جو اس سے قبل سرکاری ابہام میں لپٹی ہوئی تھی۔
بھارتی فضائیہ نے چند روز پہلے اس ہمالیائی حقیقت پر پردہ پوشی کی ایک بار پھر ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ مئی میں اسکا کوئی رفال نہیں گرا اور اسکے پاس یہ طیارے پورے ہیں۔ حالانکہ رفال بنانے والی فرانسیسی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن کم از کم دو رفال طیاروں کے گرائے جانے کی ابتداعی معلومات کی تصدیق کرچکی تھی۔رفال سمیت جنگی طیاروں کے Ejection Seats بنانے والی برطانوی کمپنی مارٹن بیکر نے مئی 2015 میں اسکے مذکورہ سیٹس سے زندگیاں بچنے کی تعداد، 7784میں چار کا اضافہ کیا تھا۔ ان میں سے اس نے ایک کی امریکی بحریہ کے طیارے F/A-18 کے Ejection کے بدولت پائلٹ کی جان بچنے کا ذکر تو کیا مگر باقی تین کو صیغہ راز میں رکھا۔ ظاہر ہے یہ بھارتی طیارے ہی تھے کہ مئی میں سوائے بھارت کے کوئی اور جنگی طیارہ نہیں گرا تھا۔فرانس کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے بھی CNN کو بتایا تھا کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارتی ملکیتی رفال طیارے مار گرائے گئے ہیں۔ بھارت نے ڈیسالٹ ایوی ایشن کے ماہرین کو بھی بھارت آکر رفال طیاروں کی تعداد معلوم کرنےاور ان کے معانئنے کی اجازت نہیں دی ۔ یاد رہے کہ 2019میں جب بھارت نے پاکستان کے ایف 16 طیارے گرانے کا جھوٹا دعویٰ کرکے اپنے نقصانات چھپانے کی کوشش کی تھی تو پاکستا ن نے امریکی ماہرین کو معائنہ کی اجازت دی تھی جس کے بعد امریکہ نے تصدیق کی تھی کی پاکستا ن کے پاس یہ طیارے پورے ہیں ۔ حالانکہ امریکہ پہلے ہی واضع کرچکا تھا کہ اس لڑائی میں ایف سولہ سرے سے استعمال ہوئے ہی نہیں۔
رائٹرز کے مطابق بھارت تو یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھاکہ رافیل بھی گرے حالانکہ خود فرانسیسی ائیر چیف جون میں رپورٹرز کو بتاچکے ہیں کہ انہوں نے رافیل اور دیگر طیاروں کا ملبہ خود دیکھا ہے۔ رافیل بنانے والی کمپنی ڈسالٹ نے فرینچ ارکان پارلیمنٹ کو جون میں بتایا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی میں رافیل کا نقصان اٹھایا ہے۔
رائٹرز نے اپنی اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ ہتھیار سے زیادہ ہتھیار چلانے والے کی پیشہ ورانہ تیاری اور اس کا عزم لڑائی میں زیادہ اہم ہوتا ہے اور پاکستان نے اس جنگ میں اسی صلاحیت اور عزم کو ثابت کیا۔ رائٹرز نے کئی پاکستانی اور بھارتی آفیشلز سے بات کر کے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان نے صرف پی ایل 15 میزائل کی رینج سے بھارت کو چونکنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس نے زمین اور فضا میں اپنے سرویلنس سسٹم کو طیاروں کے ساتھ مہارت کے ساتھ جوڑ کر جو نیٹ ورک تخلیق کیا وہ فوجی لغت میں kill chain یا ملٹی ڈومین آپریشن کہلاتا ہے اور جدید جنگی حربوں کا انتہائی اہم جزو مانا جاتا ہے۔
برطانوی فوج کے ریٹائرڈ ایئر مارشل گرین بیگویل کا کہنا ہے کہ پاک بھارت فضائی جنگ نے چینی یا مغربی طیاروں کی بالادستی کی بجائے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ درست وقت پر درست معلومات کا استعمال کامیابی کی کنجی ہوتا ہے اورپاک بھارت لڑائی میں بھی فتح اسی کی ہوئی ہےجسے حالات کا بھرپور اور درست ادراک تھا۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے 4 ہی رفال طیاروں کو مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا تھا، اسکے شواہد بھی پیش کئے اور اپنے اس دعوے پہ قائم رہا۔ اب برطانوی جریدے نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے ان طیاروں کے نمبر بھی بتلائے۔
امریکی صدر ڈوالڈ ٹرمپ کئی بار بھارتی طیاروں کے مار گراے جانے کا ذکر کرچکے ہیں اور اہم بات یہ کہ بھارت نے کبھی بھی ان کے بیانات پر کوئی ردعمل ظاہر کیا اور نہ ان کی تردید کی ۔ بلکہ 6 نومبر کو میامی میں بزنس فورم سے خطاب میں ٹرمپ نے تباہ شدہ طیاروں کی تعداد 8 بتلائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ایک اخبار نے لکھا کہ 7 طیارے گرائے گئے، ایک کونقصان پہنچامگر حقیقت میں پاک بھارت جنگ کےدوران 8 طیارے گرائےگئے۔
بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) وید پرکاش ملک نے حال ہی میں رفال سمیت بھارتی طیاروں اور ایس 400 دفاعی نظام کی تباہی سمیت بھارت کی مجموعی جنگی شکست کا کھلے لفظوں میں اعتراف کرتے ہوئے کیا کہ پاکستان نے جنگی صلاحیت اور خصوصا عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی برتری منوادی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس جنگ نےدفاعی حکمتِ عملی کو یکسر بدل دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان اور بھارت میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے کی سرحد عبور نہیں کی کیونکہ دونوں ممالک کے پاس جدید ہتھیار موجود ہیں جن کی مدد سے دور بیٹھ کر کارروائی ممکن ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہےتاہم پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں بہتر ہتھیار اور جدید سازوسامان موجود ہے اور رافیل طیاروں اور ایس-400 دفاعی نظام کی تباہی اس کی عسکری برتری کا ثبوت ہے۔جنرل (ر) وید پرکاش ملک نے کہا کہ بھارت کو اپنی فوجی تیاریوں، سازوسامان اور ٹیکنالوجی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے کیونکہ جدید جنگیں اب روایتی انداز سے ہٹ کر ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں پر منحصر ہو چکی ہیں جس میں بہتری بھارت کی اہم ضرورت ہے۔
جنگ مئی میں بھارت کی شکست اتنی بڑی حقیقت ہے اور اسکی اسقدر دفاعی یا عسکری اہمیت ہے کہ اسکو لاکھ پردوں میں بھی چھپایا نہیں جاسکتا۔ بھارت نے اسکی پردہ داری کی بڑی، مگر بھونڈی کوششیں کیں جن میں پاکستان کے ایف 16 سمیت 6 طیاروں کو مار گرانے اور دیگر نقصانات کے دعوے بھی شامل ہیں مگر دنیا تو کیا خود بھارتی عوام نے بھی حقیقت سے توجہ ہٹائے جانے کی کوشش کے تحت بیچے جانے والے اس چورن کو نہیں خریدا۔
بھارت کے موجودہ آرمی چیف جنرل دویدی اور آئر چیف امر پریت سنگھ اس شکست سے عوام کی توجہ ہٹانے اور ان کا دل جیتنے کے لئے غیر فوجی انداز میں الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگے ہیں۔ وہ کبھی کیمروں کے سامنے ڈنٹ نکالتے ہیں تو کبھی رقص کرتے ہیں۔ جنرل دویدی تو باقاعدہ اکثریتی مذہب کے جذبات کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں با وردی ہوکر مندروں میں جاکر پوجا کرنے اور ہندو سادھوؤں سے آشیرباد لے رہے ہوتے ہیں۔ مگر ان حرکتوں سے ہمالیائی سائز کی یہ حقیقت چھپ نہیں سکتی خاص طور اب جب بھارت ہی کے اندر سنجیدہ حلقے یہاں تک کہ سابق جرنیل اور وزراء بھی کھل کر اس شکست کا اعتراف کررہے ہیں جو اس بات کا عندیہ ہے کہ مودی سرکار اس کڑوے سچ کو چھپا نہیں پائے۔
یہ بھارت کے لئے اتنا بڑا دھچکہ ہے کہ جسکی اسکی دفاعی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی کیونکہ اس جنگ میں وہ اپنے اصل سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ روائتی جنگی ہتھیاروں اور صلاحیت میں برتری کے زعم میں وہ ایک عرصہ سے اس موقع کی تلاش میں تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کوئی ایسی محدود لڑائی لڑ کر اپنی برتری کو بڑھائے جو مکمل جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اسی مقصد کے تحت اس نے 2016 سے مختلف فالس فلیگ آپریشنز یا بہانوں کے تحت سرجیکل اسٹرائیکس کے نام پر کئی بار شرارتیں کیں۔ 2019 میں اسکو دو طیاروں کی تباہی اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کی صورت میں لینے کے دینے پڑ گئے مگر اسکے باجود برتری کے زعم کا بھوت اسکے سر سے نہ اترا۔ اس بار اس نے پہلگام کے واقع کو بنیاد بناکر پہلے سے زیادہ سنگین حرکت کی اور اس کے نتیجہ میں چھڑنے والی جنگ میں ایسی ذلت آمیز شکست سے دو چار ہوا کہ نہ صرف روائتی جنگی برتری کے اس زعم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا جو اس نے دہائیوں سے اپنے مغرور سینے پر سجائے رکھا تھا بلکہ تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہ کرنے کی جو سخت سیاسی اور سفارتی پوزیشن اس نے بنا رکھی تھی وہ بھی اسے امریکہ کے ساتھ ساتھ ترکیہ،ایران اور آذر بائیجان جیسے پاکستان کے دوست ممالک سے جنگ بندی کی سفارش کے لئے درخواست کی صورت میں سرنڈر کرنا پڑی۔
اگلے دس برسوں میں بھارتیوں کو معلوم ہوگا کہ مودی اینڈ کمپنی کی محض داخلی سیاسی فوائد کے حصول کے لئے کی جانے والی ان سنگین حرکتوں کی بھارت کو کتنی بڑی قیمت چکانا پڑی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے سر سے برتری کے زعم اور پاکستان کو زیر کرنے کابھوت اتر گیا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتلائے گا۔ درون خانہ مودی سرکار جانتی ہے کہ اس نے کیا کھودیا ہے اور یہ کہ پاکستان Hard Nut To Creak ہے مگر اسکو احساس کی بیداری نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ہندو قوم پرستی اسکا اوڑھنا بچھونا ہے، اسی سے اسکی سیاسی کمائی ہے۔
مگر بھارت کو آج نہیں تو کل ادراک کا یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا کہ وہ پاکستان کو زیر او ر کشمیر سے دستبردار نہیں کراسکتا۔ اسکے لئے اس نے آج تک جو جنگی استعداد بنائی تھی جنگ مئی میں اس سب پر پانی پھر گیا۔ اس میں الٹا پاکستا ن کی برتری ہی ثابت ہوگئی۔ بھارت کے لئے لے دے کے یہی راستہ بچتا ہے کہ وہ اصالت اختیار کرے۔ مسلہ کشمیر حسب وعدہ استصواب رائے کی بنیاد پر حل کرے اور پاکستان کے وجود کو تسلیم کرے بجائے اسکے کہ اسکو مٹانے کے سفر ناِتمام کو مزید دہائیوں تک دراز کرے۔






