مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی داستانِ الم، انسانی تاریخ کے ان تلخ ابواب میں شامل ہے جہاں ظلم کی سیاہی، امید کی روشنی کو نگلنے کی کوشش کرتی رہی ہےلیکن مکمل طور پر کبھی کامیاب نہ ہو سکی۔ آج جب دنیا بھر کے مسلمان عید کی خوشیاں منارہےہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، گھروں میں رونقیں سجاتے ہیں اور اللہ کے حضور شکرانے کے سجدے ادا کرتے ہیں، وہیں بھارت کے جابرنہ تسلط میں گھرے جموں و کشمیر میں ایک ماں اپنے بیٹے کی گمشدگی پر آنسو بہا رہی ہوتی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کی رہائی کی منتظر ہوتی ہے اور ایک پورا معاشرہ خوف، محاصرے اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسا خطہ زمین ہے جہاں عید کی صبح اذانوں سے زیادہ فوجی بوٹوں کی چاپ سے طلوع ہوتی ہے۔ گزشتہ 78 برسوں سے بالمودم اور 35 برسوں سے بالخصوص کشمیری عوام جس جبر و استبداد کا شکار رہے ہیں، اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ دس لاکھ سے زائد بھارتی افواج کا محاصرہ، محض اس جرم کی سزا ہے کہ کشمیری اپنے اس بنیادی حق،حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں جو انسانوں کا بنیادی حق ہے، جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کیااور جس کا وعدہ خود بھارت نے عالمی برادری کے سامنے کیا تھا۔
لیکن وعدے جب مفادات کی بھینٹ چڑھ جائیں تو وہ تاریخ کے بدنما داغ بن جاتے ہیں۔ کشمیریوں نے دہائیوں تک بھارتی سیاسی نظام کے اندر رہ کر اپنے حق کے لیے پرامن جدوجہد کی مگر جب ہر دروازہ بند پایا تو 1990 میں مزاحمت کی ایک نئی داستان رقم ہوئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ انسانیت کے لیے ایک المیہ ہے۔قتل و غارت، اجتماعی قبریں، ماورائے عدالت ہلاکتیں، خواتین کی بے حرمتی، گھروں کی تباہی،یہ سب ایک منظم ریاستی پالیسی کے تحت کیا گیا۔1990 کے بعد صرف چار سالوں میں ہی عدم تشدد کا نعرہ لگانے والے اس ملک نے قتل عام اور اجتماعی عصمت دری کے درجنوں واقعات کا ارتکاب کیا جو ہندوستان کی برطانیہ سے آزادی کی پوری تحریک میں صر ف ایک آدھ بار ہی ہی پیش آئے تھے۔
یہ سب اس ملک نے کیا جس کے بانیان کشمیریوں کے پاس آکر کہتے تھے ہم آپکو اپنا حق خودارادیت دیں گے اور کوئی جبر نہیں کریں گے، جو پاکستان کو خطوط لکھ کر کہتے تھے کہ ہم جبری شادیوں کے قائل نہیں ہیں، کشمیری عوام مکمل آزاد ہیں کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ اپنے مستقبل کا تعین کریں۔ ایک ایسی قوم کا حق خوداردایت اس ملک نے غصب کیا جو اسکے وجود کے بعد وجود میں آیا، اس قوم کو کچلنے کے لئے اس ملک نے اس پر 10 لاکھ فوج مسلط کردی جو اہنساء یعنی عدم تشدد، جمہوریت اور سکیولرازم کا دعویدار تھا۔
بھارتی جبر کا کوڑا آج بھی پوری شدت سے برس رہا ہے۔ بلکہ 2019 میں مقبوضہ علاقہ کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے اس ظلم و جبر میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ۔ بھارتی حکومت اور اسکا گودی میڈیا ڈھول پیٹ رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں غیر معمولی امن قائم ہوگیا ہے مگر زمینی حالات یہ ہیں کہ لوگ گھٹن زدہ ہیں، اظہار رئے پر مکمل پابندی ہے، کوئی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹ نہیں کرسکتا جو مقبوضہ علاقہ کے حالات کی عکاسی اور بھارت کے ظالمانہ کردار کو بے نقاب کرتی ہو، سیاسی آزادی تو دور عام نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں کہ لوگوں کی کلائیوں اور ٹخنوں پر جی پی آر ایس ٹریکر نصب کئے جارہے ہیں تاکہ ان کی مسلسل نگرانی کی جاسکے۔ جملہ حریت قیادت اور کارکنان مقید یا محصور ہیں ۔ حریت قائدین تو دور مودی سرکار نے ان لوگوں کی سیاسی مکانیت بھی مسدود کردی جو بھارتی سیاسی خیمہ سے وابستہ ہیں اور جنھوں نے تین تین نسلوں تک بھارت کے جابرانہ تسلط کو جمہوری پردہ فراہم کیا۔ اور تو اور مذہبی اجتماعات پر بھی پابندی ہے۔ جامع مسجد سرینگر جو کشمیریوں کے جداگانہ اسلامی تشخص کی ایک بڑی علامت سمجھی جاتی ہے اکثر سیل کی جاتی ہے، گذشتہ چھ برسوں میں بیشتر مواقع پر وہاں جمعہ حتیٰ کی جمعتہ الوداع کے اجتماعات نہیں ہونے دئے گئے ۔ اسی طرح عید گاہ سرینگر کو سیل کرکے وہاں عید کا اجتماع نہیں ہونے دیا جاتا۔ اکثر میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں قید کرکے جمعہ یا عید کے اجتماعا ت کی پیشوائی نہیں کرنے دی جاتی۔ رمضان ہو، عید ہو ان خاص ایام پر بھی بھارتی فوج کی طرف سے محاصروں ، تلاشیوں، توڑ پھوڑ، گرفتاریوں اور تشدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ کشمیری جبر کے شکنجوں میں زندگی جیتے ہیں۔ دنیا کے مسلمان حقیقی عید کے احساس اور لطف ست آشنا ہیں جبکہ محصور کشمیر اس سے ناآشنا ہیں۔
سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ کیسی جمہوریت ہے جو نہتے، کمزور اور محصور لوگوں کے پرامن مذہبی اجتماع سے بھی خوف ذدہ رہتی ہے؟یہ کیسا امن ہے جس میں اتنی زیادہ گھٹن ہے؟یہ امن نہیں ، دراصل قبرستان کی خاموشی ہے،ایک ایسی خاموشی جس میں آوازیں دبا دی گئی ہیں، سچ کو قید کر دیا گیا ہے اور خوف کو معمول بنا دیا گیا ہے۔
رمضان کی برکتیں ہوں یا عید کی خوشیاں،کشمیریوں کے لیے یہ ایام بھی آزمائش بن چکے ہیں۔ جہاں دنیا بھر میں مسلمان افطار کی محفلیں سجاتے رہے، وہاں کشمیر میں چھاپے مارے جاتے رہے، گھروں کی تلاشی اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا رہا۔ عید کے روز جب بچوں کو عیدی ملتی ہے تو کشمیری بچے اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔علامہ اقبال نے شائد اپنی اس محکوم آبائی قوم کی حالت زار دیکھ کر ہی کہا تھا:
عید آزاداں شکوہ ملک و دیں
عید محکوماں ہجوم مومنیں
واقعی، غلام قوموں کی عید محض ایک ہجوم ہوتی ہے۔ایک ایسا اجتماع جس میں خوشی کی روح مفقود ہوتی ہے۔
لیکن اس تمام تر ظلم کے باوجود، کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان کے دلوں میں آزادی کی شمع آج بھی روشن ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا یہ سفر، چاہے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، بالآخر “عید آزاداں” پر منتج ہوگا۔ ان کی مزاحمت، ان کی قربانیاں اور ان کا ایمان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب وہ بھارت کے پنجہ استبداد سے آزادی حاصل کرکے آزادی کی بہار دیکھیں گے اور عید محکوماں سے نکل کر عید آزاداں منائیں ۔ کشمیر میں عید بھی ایک جدوجہد ہے، ایک خاموش احتجاج، ایک یاد دہانی کہ آزادی کے بغیر خوشی ادھوری ہے۔
یہ عید، اگرچہ کشمیریوں کے لیے ایک اور آزمائش ہے مگر یہ امید کا پیغام بھی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور آتی ہے۔ اور جب وہ سحر آئے گی تو مظلوم سرزمین کا گوشہ گوشہ بھی آزادی کے نغمے گائے گا، بچے بے خوف کھیلیں گےاور عید کی نمازیں بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کی جائیں گی۔
ان شاء اللہ، وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیری عوام غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی فضاؤں میں سانس لیں گے اور ان کی عید، حقیقی عید ہوگی، خوشیوں، امن اور آزادی کی عید۔






