مقبوضہ جموں و کشمیر

دفعہ370 کے خاتمے سے کشمیری نوجوانوں میں احساس محرومی بڑھ گیا،بھارت کی پوزیشن کمزور ہوگئی: مقررین کانفرنس

نئی دہلی:نئی دہلی میں منعقدہ ایک امن کانفرنس کے مقررین نے دفعہ370کے خاتمے کے بعد کشمیری نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے اختیاری،غم و غصے اور احساس محرومی کو اجاگرکرتے ہوئے بھارتی حکومت پر زور دیاہے کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینئر کانگریس لیڈر منی شنکر ائیر، بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی، کپل کاک اور امن کارکن او پی شاہ سمیت کانفرنس کے تقریبا تمام مقررین نے زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2019کے بعد کی صورتحال معمول کے حالات سے کوسوں دور ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کی منسوخی امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے بجائے وادی میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ منی شنکر ائیرنے سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کی طرف سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میںدفعہ371کی خصوصی شقوں کو نافذ کرنے کا مشورہ دیا اور بھارتی حکومت پرزوردیا کہ وہ اگست 2019کے فیصلے کے وقت کیے گئے وعدے کے مطابق ریاست کا درجہ بحال کرے۔ انہوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ دفعہ 370کو ختم کرنے سے حالات معمول پر آجائیں گے ، انہوں نے کہاکہ پہلگام حملہ اور پاکستان کے ساتھ حالیہ تصادم جیسے واقعات اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں فوجی کارروائیوں نے پاکستان اور چین کے مقابلے میں بھارت کی سفارتی پوزیشن کمزور کردی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیصلے نے فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے جنہیں قابض حکام نے کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں دی، کانفرنس کے نام اپنے ایک پیغام میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے کشمیریوں کواجتماعی سزا دینے پر خبردار کرتے ہوئے مذاکرات اور بات چیت کوتنازعہ کشمیر کا واحد قابل عمل حل قرار دیا۔میرواعظ نے کہا کہ دفعہ370کے خاتمے کے بعد علاقے میں شہری آزادیاں مزید سلب ہوئیں،مکانوں کو مسمار کرنے، لوگوں کوہراساں کرنے اور خوف دہشت پیدا کرنے کا سلسلہ خاص طور پر نوجوانوں میں احساس محرومی بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بے اختیاری سے لوگوں کے غم وغصے میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں زور اور زبردستی کے بجائے ہمدردی، انصاف اور حقیقی شمولیت پر مبنی مذاکراتی عمل پر زور دیا۔کانفرنس میں کہاگیا کہ حل طلب تنازعہ کشمیرسے اندرونی استحکام اور علاقائی امن متاثر ہو رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button