مزید دو معصوم کشمیری بھارتی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ محمد شہباز
بھارت کا جنون اور کشمیری عوام کو قتل کرنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات دس لاکھ بھارتی فوجیوں کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے۔دو معصوم کشمیری گریز بانڈی پورہ میں شہید کیے گئے۔
شمالی کشمیر کے گریز بانڈی پورہ کے سرحدی قبصہ میں دو نہتے کشمیری فرضی جھڑپ میں آج شہید کیے گئے ۔دونوں کو گرفتار کرنے کے بعد مذکورہ علاقے میں لے جانے کے بعد فرضی تصادم کا ڈرامہ رچاکر انہیں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔بھارتی فوجیوں نے حسب سابقہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے ان معصوم کشمیریوں کو مجاہدین کے گائیڈ قرار دیا ۔ان میں سے ایک کا نام باگو خان عرف سمندر چاچا بتایا گیا کے بارے میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ وہ خفیہ اور دشوار گزار راستوں کے ماہر اور وہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ بھارتی سفاکوں کا یہ دعوی بذات خود ان کیلئے سبکی اور رسوائی کا باعث ہے کہ جب پوری کنٹرول لائن پر سات سے نو فٹ خار دار باڑ لگائی جاچکی ہو اور اس کے علاوہ بھارتی فوجی جدید ہتھیاروں سے لیس سرحدی علاقوں کی نگرانی پر معمور ہوں ایسے میں کنٹرول لائن پر عام اور نہتے کشمیریوں کی نقل و حمل خارج از امکان ہے۔یہ صرف معصوم کشمیریوں کا خون ناحق دنیا سے چھپانے کی بونڈی کوشش ہے۔ بھارتی حکمران طبقہ اور بھارتی افواج یہ دعوی کرتے نہیں تھکتے کہ کنٹرول لائن پر کسی بھی قسم کی نقل و حرکت ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ نقل و حمل پر چوبیس گھنٹے نظر رکھنے کیلئے جدید آلات پہلے سے نصب ہیں۔ایسے میں کوئی کشمیری اور وہ بھی نہتا کیونکر اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ صرف اور صرف تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم بھارتی سازش ہے۔بھارتی افواج معصوم کشمیریوں کو ماضی میں بھی فرضی جھڑپوں میں شہید کرنے کا گھناونا کھیل کھیل چکی ہے۔مژھل کپواڑہ ‘ براکہ پورہ اسلام آباد اور امشی پورہ شوپیاں میں معصوم لوگوں کا قتل بھارت کیلئے رسوائی کا باعث ہے۔امشی پورہ شوپیاں میں راجوری کے تین مزدوروں کو فرضی جھڑپ میں قتل کرنے کی پاداش میں بھارتی فوجی کیپٹن بھوپندر سنگھ کو کورٹ مارشل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔جس نے سیب کے باغ میں مزدوری کرنے والے تین نوجوان اغوا کرنے کے بعد ان کا بے رحمانہ قتل کیا تھا۔آج گریز میں فرضی جھڑپ کا ڈرامہ رچایا گیا۔باگو خان سمیت دو کشمیریوں کی فرضی جھڑپ میں شہادت کی بھی آزادانہ تحقیقات کی جائے تاکہ اس قتل میں ملوث بھارتی درندوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے۔تاکہ ایک تو انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں دوسرا لواحقین کو انصاف اور ان کی داد رسی کی جاسکے۔







