مقبوضہ جموں و کشمیر

جھوٹے کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف مسرت عالم بٹ ، شبیر شاہ اوردیگر کی درخواستیں مسترد

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ اور سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ سمیت کئی کشمیری رہنمائوںکی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کو مسترد کر دیاہے جن میں ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت درج ایک جھوٹے کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس وویک چودھری اور منوج جین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ اپیلیں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ کے سیکشن 21 کے تحت قابل سماعت نہیں ہیں۔ تفصیلی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے ۔مسرت عالم اور شبیر شاہ کے علاوہ ہائی کورٹ نے حریت رہنما نعیم احمد خان،ممتاز تاجر ظہور احمد وٹالی اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے بیٹوں سید شاہد یوسف اور سیدشکیل یوسف کی طرف سے دائر کی گئی اسی طرح کی درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا۔یہ اپیلیں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے مارچ 2022 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں جس میں ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے”کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔اسی کیس میںلشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل یاسین ملک کو ایک جھوٹے کیس میں قصوروار قراردے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ این آئی اے کی طرف سے ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی درخواست دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button