لداخ: ”ایل اے بی“کا بھارتی حکومت کیطرف سے مذاکراتی عمل میں تاخیر پر اظہار تشویش

لیہہ:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ میں” لیہہ ایپکس باڈی“ (ایل اے بی) کے شریک چیئرمین اور لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن (ایل بی اے) کے صدر چیرنگ ڈورجے لاکروک نے بی جے پی کی بھارتی حکومت کی طرف سے مذاکراتی عمل میں تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداح کے لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں، تاخیری حربے ناقابل قبول ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چیرنگ دورجے نے ایک بیان میں کہا کہ نئی دہلی نے قبل ازیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ایل اے بی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی جانب سے تجاویز موصول ہونے کے فوری بعد بات چیت کا آغاز کیا جائے گا لیکن تجاویز کو پیش کیے ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا لیکن بھارتی حکومت نے تاحال مذاکرات کی کوئی باضابطہ دعوت نہیں دی جو افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا بھارتی حکومت کا طرز عمل لداخی عومی کیلئے انتہائی مایوس کن ہے جو اپنے مطالبات کا حل چاہتے ہیں۔
ڈورجے نے لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کو نشانہ بنانے والی حالیہ آن لائن سرگرمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوںنے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکام نے چند مٹھی بھر لوگوں کو سوشل میڈیا پر کچھ بھی پوسٹ کرنے کی کھلی چھوٹ دی ہے اور یہ عناصر ” ایل بی اے“ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ناقابل قبول ہے۔
دورجے نے مزید کہا کہ وہ راجستھان کی جودھ پور جیل میں قید لداخ کے ممتاز موسمیاتی کارکن سونم وانگچک سے جلد ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انکے ساتھ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ایل اے بی کو وانگچک کے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں انہوں نے تنظیمی رہنماﺅں پر زور دیا کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات سے ہرگز پیچھے نہ ہٹیں اور لداخ کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔






