الطاف حسین وانی کا اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے نام خط
مقبوضہ کشمیر میں زمینوں پر قبضے ، ماحولیاتی تباہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پراظہار تشویش

اسلام آباد:کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے نام ایک خط میں مودی کی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری زمینوں پر قبضے ، ماحولیاتی تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرسخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق الطاف وانی نے خط میں کہاہے کہ مودی حکومت کی طرف سے خاص طور پردفعہ 370کی منسوخی اور لینڈ گرانٹس رولز میں ترمیم کے بعد مقبوضہ علاقے میں ترقی کے نام پر شروع کئے گئے منصوبوں کے ذریعے کشمیریوں کی املاک اور اراضی کے تحفظ کو ختم کر دیا گیاہے جبکہ بڑی تعداد میں غیر کشمیری ہندوئوں کو اراضی کی منتقلی کی اجازت دی گئی ہے ۔ 2019سے 2022کے درمیان 2ہزار359ایکٹر سے زائد اراضی پر قبضے سے آبادی کے تناسب کو بگاڑنے اور جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کی اقلیت میں تبدیلی کا خدشہ پیدا ہواہے۔الطاف وانی نے پلوامہ-شوپیان ریلوے پروجیکٹ کاحوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس منصوبے کیلئے 600ایکڑ سے زائد زرخیز اراضی پر قبضہ کر کے سیب کے تقریبا 7لاکھ پھل دار درختوں کوکات دیا جائے گا ،جس سے کشمیری کاشت کار اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ کے مقبوضہ علاقے میں اقدامات کشمیریوں کے صاف ستھرے ماحول، معاش اور زندگی کے مناسب معیار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ماحولیاتی ماہرین پہلے ہی مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگلات کے کٹائو ، آبپاشی کے نظام میں خلل اورانسانی عمل دخل کی وجہ سے خطے کی نازک ماحولیاتی صورتحال کو پہنچے والے نقصان کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں ۔انہوں نے خبردار کیاکہ ریلوے منصوبے کی وجہ سے پلوامہ اور شوپیاں کے لوگوں کو قدرتی ماحول، ذریعہ معاش اور ثقافتی ورثے کولاحق خطرے کا سامنا ہے، انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا۔







