پنشنرز اور بزرگ شہریوں کا حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی حالت زار پراظہار تشویش

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پنشنرز اور بزرگ شہریوں نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ بات جموں وکشمیر پنشنرز اور سینئر سٹیزنزیونائیٹڈ فرنٹ کے رہنمائوںنے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پریس کانفرنس میں بابو حسین ملک، گردھاری لال چندا، یش پال شرما، مدن سنگرال، پریم پال سنگھ، آر کے کلسوترا اور کوشل کمارموجود تھے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے کے تمام محکموں میں طویل عرصے سے خالی آسامیوں کو پر نہ کرنے سے سرکاری ملازمین پر کام کے غیر معمولی بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پنشنرز اور بزرگ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ قابض حکومت کی ملازم دشمن پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں زبردست اضافے نے محدود آمدنی والے افراد کو تباہ کر دیا ہے اور ریٹائرڈ ملازمین کی کمرتوڑ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ عملے کی کمی سے نہ صرف موجودہ ملازمین پر بوجھ بڑھ گیا ہے بلکہ ان کی صحت اور کارکردگی بھی متاثرہورہی ہے۔انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ تمام خالی اسامیوں کو فوری طور پر پر کریں تاکہ سرکاری دفاتر کے کام کاج میں مزید بگاڑ پیدا نہ ہو۔رہنماں نے انتظامیہ کو اپنے مطالبات پیش کئے جن میں سب سے اہم مطالبہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنا ہے۔یونائیٹڈ فرنٹ نے آٹھویں پے کمیشن کے مکمل نفاذ اور اس کے فوائد ریٹائرڈ ملازمین کو فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔فرنٹ کے رہنمائوں نے آنے والے دنوں میں اپنی کوششیں تیز کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ پنشنرز، بزرگ شہریوں اور مقبوضہ علاقے میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے دیرینہ مسائل کو مثبت انداز میں حل کریں۔








