مودی حکومت کے ترقی اورخوشحالی کے بلندو بانگ دعوے بے نقاب
لارموہ ترال کے باسی 12سال سے خستہ حال پل کی تعمیر نو کے منتظر

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ایک طرف مودی کی زیرقیادت ہندوتوا حکومت ترقی اورخوشحالی کے بلندو بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتی تودوسری طرف لوگ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لارموہ ترال کے باشندے2014 میں آئے سیلاب سے تباہ ہونے والے پل کی مرمت یا تعمیرنو کے منتظر ہیں۔ سرینگر جموں قومی شاہراہ سے محض دو کلومیٹر دور لارموہ کے لوگوں کا کہنا ہے اس اہم پل کی خستہ حالت سے ایک کثیر آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ پل نہ صرف بستی کے لوگوں کو کھیت کھلیانوں تک رسائی فراہم کرتا ہے بلکہ بارہگام، ڈونی گنڈ، سیل اور نور پورہ سمیت دیگر بستیوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ تاہم پل کی مرمت یا تعمیر نوکے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں بلکہ زبانی جمع خرچ سے کام چلایا جا رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اس خستہ حال پل کی تعمیر نو کے لیے اگرچہ انہوں نے کئی بار حکام سے رابطہ کیا لیکن ہر بار ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ 2014 کے سیلاب کے دوران اس پل کو نقصان پہنچا لیکن12سال گزرنے کے باوجود پل کی تعمیر ومرمت کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ پل کی تعمیر نو کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔







