اقوام متحدہ جموں و کشمیر کے بارے میں 5جنوری 1949کی قرارداد پر عملدرآمد کرائے: حریت کانفرنس

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 5جنوری 1949کی قرارداد سمیت جس میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی ضمانت دی گئی ہے ،جموں وکشمیر کے بارے میں اپنی منظورشدہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے تنازعہ کشمیر کو حل کرے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 5جنوری 1949کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حق میں منظور کی گئی قرارداد پر عمل درآمد نہ ہونا عالمی ادارے کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری گزشتہ کئی دہائیوں سے اس حق کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی ہٹ دھرمی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے 5 اگست 2019کو اقوام متحدہ کی قرارداد وںکی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت میں زبردستی ضم کرنے اورعلاقے کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی متنازعہ نوعیت ایک حقیقت ہے اور بی جے پی حکومت اپنی غیر قانونی چالوں سے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی کیونکہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک حل طلب تنازعہ ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کا زبردست حامی ہے اور ان کے لیے اس حق کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام تمام بین الاقوامی فورمز پر اپنے جائز کاز کی بھرپور وکالت کرنے پر پاکستان کے بے حد مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے اور کشمیر کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے پر اسے کیفر کردار تک پہنچائے۔
دریں اثناء جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، تحریک حریت جموں کشمیر، مسلم لیگ، تحریک خواتین کشمیر اور دیگر جماعتوں نے سرینگر میں اپنے الگ الگ بیانات میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ 5 جنوری 1949کی تاریخی قرارداد پر عمل درآمد کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے جس میں جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیاہے۔بیانات میں کہا گیا کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو آگے آنا چاہیے اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے رہنمائوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر ایک جوہری فلیش پوائنٹ اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی حل کیا جا سکتا ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اس مقصد کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اسلام آباد میں ایک بیان میں اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کو اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ کشمیری عوام کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت کے غیر قانونی قبضے کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب آج یوم حق خود ارادیت منایا جا رہا ہے جو عالمی برادری کودیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کنجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام دیرینہ تنازعے کے حل پرمنحصر ہے۔انہوں نے کہا 5 جنوری 1949 کی قرارداد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک پرامن اور جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔








