واشنگٹن :یوم حق خودارادیت کے موقع پر موبائل ڈیجیٹل بل بورڈ مہم
اقوام متحدہ کی توجہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جانب مبذول کرائی گئی

واشنگٹن:امریکہ کے دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک موبائل ڈیجیٹل مہم کا آغاز کیا گیا۔مہم کے ذریعے اقوام متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنے دیرینہ وعدے کو پورا کرتے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انکے حق خودارادیت کو یقینی بنائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق موبائل ڈیجیٹل مہم ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم نے یوم حق خود ارادیت کے سلسلے میں شروع کی ہے جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5جنوری 1949کومنظور کی گئی قرارداد کے موقع پر منعقد کی گئی۔اس قرارداد کے ذریعے کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کی ضمانت دی گئی تھی۔مہم کے دوران ڈیجیٹل بل بورڈز پر "کشمیریوں کا مطالبہ رائے شماری”، "اقوام متحدہ کی قراردادیں: کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، بھارت-تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو،مقبوضہ کشمیر میں زمینوں پر قبضہ بند کرواورکشمیریوں کو اپنی بقا کے خطرے کا سامنا ہے- اقوام متحدہ کا فوری کارروائی کرنی چاہیے "جیسے نعرے درج تھے۔ ڈیجیٹل ٹرک واشنگٹن میں اہم وفاقی اور سفارتی مقامات بشمول امریکی محکمہ خارجہ، کیپیٹل ہل، وائٹ ہائوس کے قرب و جوار، یادگارواشنگٹن ، غیر ملکی سفارت خانوں، لنکن میموریل، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر اہم مقامات سے گزرے اور پالیسی سازوں، سفارت کاروں، میڈیا اور عوام کی توجہ حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کی جانب مبذول کروائی۔ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے بھارت کے مسلسل انکار نے جنوبی ایشیا کو غیر مستحکم کر رکھا ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتوں کو خطرناک حد تک تنازعات کے قریب پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ڈاکٹر فائی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے جب بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کردیا،مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، شہری آزادیوںپر قدغن ، سیاسی قیادت کی قید اورآبادی کے تناسب کو بگاڑنے کا سلسلہ تیز کر دیاگیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میر نے اس موقع پر کہا کہ جموںوکشمیر پر تقریبا آٹھ دہائیوں سے بھارتی فوجی تسلط جاری ہے اور عالمی برادری کو کشمیریوں کی حالت زار کے بارے میں جان بوجھ کرگمراہ کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دھوکہ دہی اور سیاسی چالوں کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کامرتکب ہوا ہے۔ کشمیری نژاد امریکی سکالر پروفیسر ڈاکٹر امتیاز خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان بامعنی مذاکرات کیلئے سہولت فراہم کریں اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے بھارت میں انتہا پسند ہندوتوا نظریے کے عروج اور مذہبی اقلیتوں پر اس کے گہرے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر کشمیر امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے رہنمائوں اورکشمیر ہائوس واشنگٹن کے صدر راجہ لیاقت کیانی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔








