مقبوضہ جموں و کشمیر: بھارت کی نئی حکمت عملی، کشمیری ڈاکٹروں پر من گھڑت الزام
محمد شہباز
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور حالیہ دنوں میں سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کر کے تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کے الزام میں جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مودی حکومت نے اپنے ظلم کا رخ اب انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹروں کی طرف موڑ دیا ہے، اور محض من گھڑت الزامات کے تحت چار ڈاکٹر بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
سب سے پہلے ڈاکٹر عدیل احمد کو بھارتی شہر سہارنپور سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ ایک نجی ادارے میں کام کر رہے تھے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ایک سال تک ہسپتال میں رائفل رکھی تھی، حالانکہ وہ گزشتہ سال ہی اس ادارے کو چھوڑ چکے تھے۔ اسی طرح، یوپی پولیس نے ڈاکٹر عدیل پر دباؤ ڈالا اور اس کے بعد فرید آباد دہلی سے ڈاکٹر مزمل شکیل کو حراست میں لیا۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کرائے پر ایک کمرہ لیا تھا جہاں سے 2900 کلوگرام دھماکا خیز مواد، رائفلیں، ٹائمرز اور بیٹریاں برآمد کی گئیں۔ تاہم، فرید آباد کے پولیس کمشنر کمار گپتا نے اپنے ہی پولیس افسران کے دعووں کو مسترد کر دیا، جب انہوں نے کہا کہ ضبط شدہ رائفلیں AK-47 نہیں تھیں، جس سے پولیس کے دعوے کا پول کھل گیا۔
اس کے علاوہ، فرید آباد سے خاتون ڈاکٹر شاہین شاہد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق لال باغ، لکھنؤ سے تھا۔ بھارتی حکام نے ان کا تعلق ڈاکٹر مزمل سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ڈاکٹر احمد محی الدین سید کو گجرات سے گرفتار کیا گیا، اور ان پر کیمیائی حملے کی تیاری کا الزام لگایا گیا۔
یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت کشمیری ڈاکٹروں کو دہشت گرد بنانے کی سازش کر رہا ہے؟ ان کی گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ محض من گھڑت الزامات کے تحت ڈاکٹروں پر ہاتھ ڈالنا کوئی اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ڈاکٹر کسی بھی معاشرے کا ایک معزز اور قابل احترام طبقہ ہوتے ہیں، اور ان کا کام انسانیت کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔ پھر ایسی صورتحال میں ان پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے گرفتاریاں کرنا ایک سنگین سوال پیدا کرتا ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی حکمرانوں نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر آئینی اقدامات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اب یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی۔ مگر دودھ اور شہد تو نہیں آیا، بلکہ اب انسانیت کی خدمت کرنے والوں پر ظلم کی انتہائیں کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام اقدامات مودی حکومت کے جنگی جنون اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لئے ہیں۔
کشمیری ڈاکٹروں پر ہاتھ ڈالنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی کئی کشمیری ڈاکٹروں کو اسی طرح کے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاریاں تیز ہو گئی ہیں، اور بھارتی فوجیوں اور پولیس کی جھوٹے الزامات کی بنیاد پر کارروائیاں سوالات اٹھاتی ہیں: کیا یہ محض اتفاق ہے یا بھارت کا ایک سوچی سمجھی سازش ہے؟
مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا واحد ایسا خطہ ہے، جہاں بھارتی فوجی ڈاکٹروں جیسے پیشہ ور افراد پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور انہیں دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان گرفتاریوں کو بھارتی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈاکٹر عدیل احمد کی گرفتاری ایک ایسا کیس ہے جس سے بھارتی دعوے مزید مشکوک ہو گئے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ایک پوسٹر چسپان کیا تھا جس پر دکانداروں کو بھارتی ایجنسیوں سے تعاون نہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر عدیل کو کسی عسکری تنظیم سے جوڑا جا رہا ہے، مگر ان کے خلاف کوئی ٹھوس یا مستند ثبوت نہیں ہیں۔
یہ سوال پھر اٹھتا ہے کہ بھارت کشمیری ڈاکٹروں کو دہشت گرد بنانے کی سازش کیوں کر رہا ہے؟ ایسا طبقہ جو معاشرتی طور پر ایک بلند مقام رکھتا ہے، اس پر الزام تراشی اور گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لئے کسی بھی شخص یا طبقے کو دہشت گردی سے جوڑ دیتا ہے۔ بھارت اپنے گود لیے میڈیا سے ٹرائل کرواتا ہے، اور جب عدالتیں فیصلے نہیں سناتیں تو سزا میں مزید شدت لائی جاتی ہے، کیونکہ بھارتی جج حکومتی اشاروں پر چلتے ہیں، جیسا کہ بھارتی وکیل پرسانت بھوشن نے خود اس کا اعتراف کیا۔
کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاریوں کا ایک اور عنصر یہ ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لئے بھارت نے کسی بھی سرگرم شخص، تنظیم یا طبقے کو دہشت گردی سے جوڑنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈاکٹروں کو نشانہ بنانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سیاسی دباؤ کے ذریعے بھارت کی ناکامیوں سے نکلنا اور کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کو کمزور کرنا سر فہرست ہیں۔
کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاریاں اس بات کا غماز ہیں کہ بھارت کشمیری عوام کو ایک دہشت گرد قوم کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ ان کی ثقافت، مذہب اور شناخت کو عالمی سطح پر بدنام کیا جا سکے۔ بھارت کا مقصد کشمیریوں کو خوف زدہ کرنا اور ان کی آزادی کی تحریک کو دبانا ہے۔ اگر کشمیری ڈاکٹرز اس تحریک کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، تو بھارت کے لیے انہیں قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
کشمیری ڈاکٹروں کی مالی مشکلات بھی سنگین ہیں، اور نئے انٹرن ڈاکٹروں کو تو اتنی اجرت نہیں ملتی کہ وہ دو وقت کا کھانا کھا سکیں۔ بھارتی حکومت کشمیری عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے ڈاکٹرز اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنا رہی ہے، اور ان کی گرفتاریوں کا عمل عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقوق کو دبانے کے بھارتی منصوبے کا حصہ ہے۔
اہل کشمیر کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد، جن میں سرفہرست امریکہ میں مقیم معروف کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی ہیں، بھی بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر فائی کے آبائی گاؤں واڈون بڈگام میں بھارتی حکام نے چھاپہ مار کر نہ صرف ان کی جائیداد ضبط کر لی، بلکہ انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی ایک ممتاز کشمیری رہنما اور واشنگٹن میں قائم کشمیر امریکن کونسل کے سربراہ ہیں، اور انہوں نے ہمیشہ اہل کشمیر کے اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر سے لے کر بھارتی ریاستوں میں کام کرنے والے کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاریوں کا عمل صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئے اور خطرناک سیاسی منظرنامے کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔ بھارت، جو اپنے اندرونی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ہمیشہ نئی حکمت عملیوں پر عمل پیرا رہتا ہے، اب پوری کشمیری قوم کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت اپنے اقتدار کی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کے مسلمہ حقِ خودارادیت کو دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے، جو کہ گزشتہ 78 برسوں سے اہل کشمیر کی جدوجہد کا مقصد ہے۔
بھارتی حکومتی اقدامات میں ایک اور نیا پہلو اس وقت سامنے آیا جب کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاریوں اور ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کے بعد بھارتی میڈیا نے ان گرفتاریوں کو پاکستان کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا۔ یہ سب کچھ دراصل بھارتی حکومت کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے، جس میں گودی میڈیا نے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام بہار کے انتخابات میں کامیابی کے لئے کشمیریوں کو قربانی کا بکرا بنانے کی ایک چال ہو سکتی ہے، اور اس کے لیے کشمیری ڈاکٹروں جیسے اعلیٰ دماغوں پر ہاتھ ڈالنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے اندرونی بحرانوں اور ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کی یہ حکمت عملی بھی انہیں ناکامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دے گی، جیسا کہ ماضی میں بھی بھارت کو اس طرح کی بے بنیاد کوششوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔







