مقبوضہ جموں و کشمیر

کشمیریوں کی بیش بہا قربانیوں کیوجہ سے تنازعہ کشمیر دنیا میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے، حریت کانفرنس

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کی جڑیں استصواب رائے اور حق خود ارادیت کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصول میں پیوستہ ہیں اور ان کی بیش بہا قربانیوں نے مسئلہ کشمیر کو دنیا میں توجہ کا مرکزبنا دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ اگر عالمی برادری چاہے تو جموں و کشمیر کا تنازعہ تیزی سے حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں امن ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے موجودہ بغاوت کو کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی 78 سالہ تاریخ میں بے مثال قرار دیا۔ترجمان نے بھارت نواز سیاست دانوں کی طرف سے علاقے کی سرزمین غیر کشمیری بھارتی ہندوئوں کو فروخت کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ یہ سب نئی دلی کو خوش کرنے کیلئے کر رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ غیر کشمیری ہندو آباد کاروں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ خطے کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔ترجمان نے کہا کہ آزادی کیلئے بے شمار قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، کشمیری بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ ایک دن ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے۔
ترجمان نے کہا کہ برصغیر کے لوگوں نے 200 سال سے زائد جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی، کشمیریوں نے 2008، 2009 اور 2010 اور 2016میں بھر پور پر امن احتجاجی تحریکیں چلائیں اور قربانی کی ایک عظیم تاریخ رقم کی۔۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جبر کی سیاہ رات بالآخر ختم ہو جائے گی اور کشمیری عوام آزادی کی صبح ضرور دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام نے کشمیریوں کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے جبر کا ہر طریقہ استعمال کیا لیکن وہ ان کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہے۔ ترجمان تمام شہدائے کشمیرکو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عظم قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دبا ڈالے کہ وہ علاقے میں ریاستی دہشت گردی بند اور دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button