APHC-AJK

بھارت کے جمہوری دعوے تاریخ کے منہ پر طمانچہ ہیں: غلام محمد صفی

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںو کشمیرو پاکستان شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ بھارت کا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینا حقائق سے کھلا انحراف اور تاریخ کے منہ پر ایک تلخ طمانچہ ہے، جس کی حقیقت مقبوضہ جموں و کشمیر پر جاری بھارتی قبضے سے بے نقاب ہو جاتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر جاری بیان میں غلام محمد صفی نے کہا کہ وہ ریاست جو گزشتہ 78 برسوں سے جموں و کشمیر پر طاقت کے زور پر قابض ہو، وہاں کے عوام کو آزادی، شناخت، زمین، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھے، کسی صورت خود کو جمہوری کہلانے کی اہل نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کا تصور بندوقوں کے سائے میں دم توڑ چکا ہے، جہاں فوجی قوانین، اجتماعی سزائیں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، گھروں کی مسماری، جائیدادوں کی ضبطی، ملازمتوں سے بے دخلی اور آبادی کا تناسب بدلنے کی منظم پالیسیاں نافذ ہیں۔ حریت کنوینئر نے کہا کہ لاکھوں کشمیری اپنے بنیادی اور پیدائشی حق، یعنی حقِ خودارادیت کے مطالبے پر بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ بھارت نے پورے خطے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ جو ریاست لوگوں کو ان کی سرزمین پر اجنبی بنا دے، نوآبادیاتی حربوں کے ذریعے اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کرے اور اختلافِ رائے کو دہشت گردی قرار دے کر کچل دے، وہ جمہوریت نہیں بلکہ استعماری ذہنیت کی عکاس ہوتی ہے۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت میں حالات صرف کشمیر تک محدود نہیں بلکہ خود بھارت کے اندر بھی مذہبی اور نسلی اقلیتیں شدید امتیاز، تشدد اور منظم نفرت انگیز مہمات کا نشانہ بن رہی ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں پر تشدد، عبادت گاہوں کی مسماری، شہری حقوق کی پامالی اور ریاستی سرپرستی میں نفرت کی سیاست بھارت کے جمہوری دعوؤں کی قلعی کھول دیتی ہے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے سوال کیا کہ کیا ایسی ریاست، جو اپنی اقلیتوں اور محکوم اقوام کے ساتھ اس قدر سفاکانہ سلوک کرے، واقعی جمہوری کہلانے کی مستحق ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بھارت اس صدی میں ایک نمایاں سامراجی اور نوآبادیاتی ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے۔
غلام محمد صفی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے گمراہ کن جمہوری بیانیے سے نکل کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button