بی جے پی کا آمرانہ چہرہ بے نقاب، بھارتی پارلیمان میں اپوزیشن کو منظم طریقے سے خاموش کر دیا گیا

نئی دلی:بھارت میں مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے حزب اختلاف کی آوازمسلسل دبارہی ہے ،جس سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے بھارت کے دعوے ایک بار پھر مشکوک ثابت ہو گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گزشتہ روز9فروری کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے متنازع فیصلوں کے باعث ہنگامی آرائی ،شورشرابہ اور شدید کشیدگی جاری رہی ۔ اس سے قبل 3فروری کو اسپیکر نے کانگریس رہنما اورقائد حزب اختلا ف راہول گاندھی کو سابق فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل ایم ایم ناروانے کی کتاب سے اقتباسات پیش کرنے سے روک دیاتھا اوربیشتر کانگریس ارکان کو معطل کر دیا گیاتھا۔ کانگریس نے اوم برلا کے اس متنازع دعوے کو بھی مسترد کیاہے کہ کانگریس کی خواتین ایم پیز کی طرف سے حملے کے خطرے کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں شرکت کی ۔اپوزیشن کے مشترکہ انڈیا اتحاد نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتمادلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی دلی میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے سربراہ ملکارجن کھرگے کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اس حوالے سے انڈیا بلاک کے فلور لیڈرز نے مکمل اتفاق کیاہے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر پر جانبداری اور حزب اختلاف کی آوازوں کو دبانے کا الزام عائد کیا ہے اور کہاہے کہ لیڈر آف اپوزیشن راہول گاندھی کو صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران اور بھارت-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے جیسے اہم معاملات پر بات کرنے سے روکا گیاہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج حساس معاملات سے شروع ہوا، جن میں جنرل نروانے کی کتاب اور راہول گاندھی کے بیانات شامل تھے۔ ان موضوعات پر مودی حکومت پارلیمنٹ میں بحث سے گریز کررہی ہے ۔مبصرین کے مطابق اپوزیشن کے خلاف مودی حکومت کے اقدامات کسی ایک دن یا ایک سیشن تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں اپوزیشن ارکان کی معطلی، میڈیا پر دبائو، اداروں کا غلط استعمال اوراختلافِ رائے کی جمہوری گنجائش کاتیزی سے سکڑنا شامل ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتی پارلیمان بتدریج محض ایک ربر اسٹیمپ بنتی جا رہی ہے، جہاں اختلافِ رائے کو جرم سمجھا جا تا ہے ۔







