بھارتی فورسز پوسٹروں میں مقامی نوجوانوں کوغیر ملکی عسکریت پسند قرار دے رہی ہیں

سرینگر:تحریک آزادی کشمیر کی مقامی نوعیت کو مسخ کرنے کے لئے بھارتی فوج اور پولیس نے مقامی کشمیری نوجوانوں کوغیر ملکی عسکریت پسند قرار دے کر اور عوامی مقامات پر ان کے پوسٹر چسپاں کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مہم شروع کردی ہے جسے مبصرین ایک سوچا سمجھی حکمت عملی قراردے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے اس مہم کے تحت فروری 2026 میں جموں خطے کے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور وادی چناب کے متعدد مقامی نوجوان مزاحمتی رہنماو¿ں کے پوسٹر جاری کیے جن میں سیف اللہ اور محمد امین عرف جہانگیر سروری شامل ہیں۔ بھارتی پولیس نے جہانگیر سرووری کو علاقے میں سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والے حزب المجاہدین کمانڈر کے طور پر بیان کیاہے او ر دعویٰ کیا ہے کہ وہ کشتواڑ یا ڈوڈہ کے پہاڑی علاقوں میں چھپا ہوا ہے۔ضلع ڈوڈہ میں پولیس نے ایک مبینہ پاکستانی کمانڈر سیف اللہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کئی اہم مقامات پر پوسٹر چسپاں کیے ہیں۔ ڈوڈہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندیپ مہتا نے دعویٰ کیا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ سیف اللہ ملحقہ ضلع کشتواڑ کے چھاترو بیلٹ میں چھپا ہوا ہے اور وہ بھیس بدل کر فرار ہونے کی کوشش کرسکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ داڑھی اوربغیر داڑھی کے تصویروں والے پوسٹر ناگری، ڈیسا، ڈوڈہ کے داخلی راستے، گنپت پل اور ٹھاٹھری سمیت اہم ناکوں اور عوامی مقامات پر چسپاںکیے گئے ہیں۔ پولیس نے سیکورٹی کے نام پر عوام سے معلومات فراہم کرنے اور مکانات یا دکانیں کرائے پر دینے سے پہلے حکام کو مطلع کرنے اورپیشگی تصدیق کرنے کی اپیل کی ہے ۔تاہم سیاسی مبصرین اور مقبوضہ علاقے میں سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پوسٹر مہم تحریک آزادی کشمیر کو حق خود ارادیت کی مقامی جدوجہد کے طور پر تسلیم کرنے کے بجائے اسے ایک ایسی تحریک کے طورپر پیش کرنے کی کوششہے جس کی سرپرستی کنٹرول لائن کے اس پار سے ہورہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی نوجوانوں کو بار بارغیر ملکی عسکریت پسندقرار دینے کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا اور تنازعہ کشمیر کی سیاسی نوعیت کو کمزور کرنا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہاکہ کہ یہ مہم ڈوڈہ-کشتواڑ کی پٹی اور جموں خطے کے دیگر علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی طویل کارروائیوں، چھاپوں اوردیگر ظالمانہ اقدامات کے لئے بہانہ تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز غیر ملکی عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کی آڑ میں نگرانی بڑھارہیہیں، گھر گھر تلاشی لے رہی ہیں، نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتارکرتی ہیں اور لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔
دریں اثناءقابض حکام نے بتایا کہ ڈوڈہ کے علا قوں ٹھاٹھری اور گندوہ میں تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں اورچلی کے جنگل میں ایک خفیہ ٹھکانے کو تباہ کیا گیا ہے۔ حالیہ جھڑپوںکے بعد ڈوڈہ، کشتواڑ، کٹھوعہ، ادھم پور، راجوری اور پونچھ اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ مقامی نوجوانوں کو غیر ملکی عسکریت پسند قرار دینے کا مقصد نہ صرف سویلین علاقوں میں فوجیوں کی تعیناتی کے لئے جواز فراہم کرنا بلکہ کشمیریوں کی سیاسی امنگوں کے جواز کو بھی نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے دیرینہ تنازعہ کشمیر حل ہونے کے بجائے مقامی آبادی مزید الگ تھلک ہوگی اور بداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔






