آزادانہ تجارتی معاہدوں کے باغبانی شعبے پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ
جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اوررکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے بیرونی ممالک کے ساتھ بھارت کے آزادانہ تجارتی معاہدوں کے علاقے کے باغبانی شعبے بالخصوص سیب کی صنعت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وحید پرہ نے جموں میں اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اجلاس سے اس معاملے پر مشترکہ موقف اختیارکرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے بھارت ۔امریکہ تجارتی معاہدے کو ایک ایسا مسئلہ قرار دیاجس پرپارٹیوں سے بالاتر ہوکر بات کی جاسکتی ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر زور دیا کہ وہ کسانوں اور باغبانوں کے خدشات کوملکر دور کرنے کے لیے ایک اجلاس بلائیں۔ وحید پرہ نے کہاکہ میری حکومت،وزیر اعلیٰ اور ایوان میں موجود ارکان سے درخواست ہے کہ اس مسئلے پر ایک کل جماعتی اجلاس ہونا چاہئے کیونکہ یہ سب کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کل جماعتی اجلاس بلا کر اس مسئلے پر بات کرتے ہیں تو وزیر اعظم مودی سے اس معاملے پر غور کرنے کی اپیل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مسائل کا گہرا تعلق اقتصادی بحالی سے ہے۔پی ڈی پی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتی جب تک کہ سیب کی صنعت کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کئی یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے پھلوں کی مقامی منڈی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں جس سے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وحید پرہ نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کو تشدد سے دور رکھنے کے لیے پائیدار معاشی بحالی ضروری ہے۔






