کینیڈین حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات میں اسکے سنگین جرائم کو مد نظر رکھے، سکھ کارکن
ایک اور سکھ رہنما کواہلخانہ سمیت جان سے مارنے کی دھمکی

اوٹاوا : کینیڈا میں مقیم خالصتان نواز سکھ کارکنوں نے وزیر اعظم مارک کارنی کے کل سے طے شدہ چار روزہ دورہ بھارت سے قبل جارحانہ بھارتی عزائم کے بارے میں خبردارکیا ہے ۔ کارکنوں نے کینیڈین حکومت پر زور دیا کہ بھارت کے پر تشدد جرائم کو مد نظر رکھے اور اسکے ساتھ اپنے تعلقات میں محتاط رہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکھ کارکنوں نے ان خیالات کااظہار برٹش کولمبیا کے ایک سکھ مذہبی رہنما کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں کے تناظر میں کیا ہے۔ مونیندر سنگھ نامی رہنما کو حال ہی میں پولیس نے خبردار کیا ہے کہ انہیں اور انکے خاندان کو خطرات لاحق ہیں۔ قبل ازیں کینیڈا میں خالصان نواز سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو جون 2023 میں بھارتی حکومت کی ایما پر قتل کر دیا گیا تھا ۔مونیندر سنگھ، جو سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ وینکوور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی۔مونیندرسنگھ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نقاد ہیں اور خالصتان تحریک کے حامی ہیں جو بھارت کے سکھوں کی اکثریت والے پنجاب کی آزادی کی حمایت کرتی ہے۔مونیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے گھناو¿نے جرائم کو انجام دینے کے لیے کینیڈا میں موجود جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کرتا ہےلہذا مجھے لگتا ہے کہ مجھے بھی سکھوں کے وطن، خالصتان کے لیے میری حمایت اور بھارت کے انسانی حقوق کے خوفناک ریکارڈ کا پردہ چاک پر نشانہ بنایا جائے گا۔کینیڈین وزیر اعظم ایک ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جب بھارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع محصولات کی زد میں ہے۔قبل ازیں سابق وزیر اعظم کینیڈا جسٹن ٹروڈو کی حکومت نے برملا کہا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی خراب ہو گئے تھے۔کینیڈا کے قومی سلامتی کے حکام کا بھی کہنا تھا کہ ملک میں رونما ہونے والے سنگین جرائم میںبھارت کا ہاتھ ہے۔اس صورتحال میں سکھ رہنماﺅں نے وزیر اعظم مارک کارنیMark Carney جو کل 27فروری تا2مارچ بھارت کا دورہ کر رہے ہیں ، پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے قیام میں اسکے سنگین جرائم ، ملک میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی اور انسانی حقوق کے بدترین ریکارڈ کر مدنظر رکھیں ۔







