ایران کے خلاف جنگ میں بھارتی بندرگاہیں استعمال ہورہی ہیں: سابق امریکی مشیر دفاع کا سنسنی خیز انکشاف
مودی ،نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا پوسٹر بوائے،سستا اشتہار ہے جو یاہو کے سہارے ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسرائیلی صحافی
خونی کھیل میں بھارت کی حصہ داری کی قیمت سفارتی تنہائی ہی نہیں تاریخی بدنامی کی صورت چکانا پڑے گی جس کا کفارہ اسکی نسلوں کو ادا کرنا پڑے گا
ارشد میر
عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظرنامے میں جب طاقت، مفاد اور اخلاقیات آمنے سامنے کھڑے ہوں تو اقوام کی اصل شناخت آشکار ہوتی ہے۔ آج کا بھارت، جس کی قیادت ہندو فسطائی نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں اس کے فیصلے نہ صرف خطے بلکہ آئندہ نسلوں کے ضمیر پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کے معتبر ذرائع کے مطابق مودی نے نیتن یاہوکو ایران کے خلاف بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو بھارت خود کو ایک ایسے خطرناک کھیل میں جھونک رہا ہے جس کی قیمت صرف سفارتی تنہائی نہیں بلکہ تاریخی بدنامی بھی ہو سکتی ہے۔
امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلس میکگریگر کے بیان نے اس بحث کو مزید سنسنی خیز بنادیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے(امریکی) تمام اڈے اور بندرگاہی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے ہمیں بھارت اور بھارتی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔اگر ایک خود مختار ملک اپنی سرزمین کو کسی تیسرے ملک کے خلاف عسکری مہم جوئی کے لیے پیش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کو خیر باد کہہ دیتا ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جو کبھی غیر وابستہ تحریک کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا تھا مگر آج وہ بڑی طاقتوں کے جغرافیائی کھیل میں ایک مہرہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی صحافی ایتے میک نے اپنے مضمون میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا “سستا اشتہار” قرار دیا۔ کرنل ڈگلس میکگریگرنے بھی مودی کو نتن یاہو کی انتخابی مہم میں “پوسٹر بوائے” قرار دیا۔عالمی میڈیا پلیٹ فارمز جیسے بلومبرگ، الجزیرہ اور ٹی آر ٹی ورلڈ بھی اس دورے کو مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک قرار دے چکے ہیں۔ جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کسی ملک کی پالیسی کو مفاد پرستی اور موقع پرستی سے تعبیر کریں تو یہ محض تنقید نہیں بلکہ ایک سفارتی انتباہ ہوتا ہے۔
میکگریگر اس بات کے بھی معترف ہیں کہ ایران ایک براعظمی طاقت ہے جس کی آبادی کروڑوں میں اور جغرافیائی وسعت مغربی یورپ کے برابر ہے۔ اس کے پاس میزائل سسٹمز اور دفاعی صلاحیت موجود ہے جبکہ چین اور روس جیسے ممالک اس کی پشت پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر بھارت کھل کر ایک فریق بن جاتا ہے تو وہ نہ صرف خطے کے توازن کو بگاڑتا ہے بلکہ اپنی معاشی راہداریوں اور توانائی کے مفادات کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تجارت پر پڑتا ہے اور بھارت جیسی بڑی معیشت اس جھٹکے سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔
یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مودی کا دورہ اسرائیل کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے تھا؟ اڈانی گروپ کی حیفہ اور چابہار بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے تناظر میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا قومی وقار کو نجی سرمایہ کاری پر قربان کیا جا رہا ہے؟ اگر ایک ریاستی سربراہ اپنے قریبی کاروباری حلقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے خارجہ پالیسی ترتیب دے تو یہ ملکی مفادات اور وقار کے منافی اور جمہوری اصولوں سے انحراف ہے۔ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب وہ مشکلات کا سامنا کرتی ہیں بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کی قیادت ذاتی یا گروہی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دیتی ہے۔
بھارت کی داخلی سیاست میں بھی اس معاملے پر بے چینی پائی جاتی ہے۔اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے اس دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اسے خارجی آزادی کا سرنڈراور ایران سے بے وفائی کہہ رہی ہیں۔ یہ اختلافِ رائے اس بات کا ثبوت ہے کہ خود بھارت کے اندر اس پالیسی پر مکمل اتفاق موجود نہیں۔
انسانی اور اخلاقی پہلو سب سے اہم ہیں۔ اگر کسی خطے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہو اگر غزہ جیسے علاقوں میں تباہی کی تصاویر دنیا دیکھ رہی ہواور اس دوران کوئی ریاست جارحین و قاتلین کی سہولت کار بن جائے تو تاریخ اسے کس خانے میں رکھے گی؟ طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اگر بھارت ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اخلاقی طاقت و کردار بھی دکھانا ہوگا۔ محض عسکری یا معاشی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرنے والی ریاستیں وقتی فائدہ تو اٹھا لیتی ہیں مگر تاریخ کے اوراق میں ان کا نام متنازع رہ جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں۔ مگر مفادات کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک انسانی خون میں رنگے اقدامات کا ساتھ دیتا ہو تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ساکھ ایک بار مجروح ہو جائے تو اسے بحال کرنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کی قیادت کا خواب اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جب وہ توازن، اعتدال اور اصول پسندی کا مظاہرہ کرے۔ بصورت دیگر وہ ایک ایسے کیمپ میں کھڑا دکھائی دے گا جسے دنیا طاقت کے غرور اور جبر کی علامت سمجھتی ہے۔ایک وقت میں نازیوں کا بھی عروج تھا۔ ان کے غرور کے نیچے اخلاق و قانون و اقدار کچلی جارہی تھیں، کئی ممالک نے اپنے مفاد کی خاطر ان کے مطیع بن گئےمگر اسکا انجام کیا ہوا؟کہان ہے وہ جبروت و دبدبہ ؟آج نازیوں کا نام اور ان کے سہولت کاروں کے کام تاریخ کی بدنام اور تاریک گلیوں میں گم ہوچکا ہے۔
آنے والی نسلیں تاریخ کو صرف سرکاری بیانیوں سے نہیں پڑھتیں بلکہ وہ عالمی ریکارڈ، میڈیا رپورٹس اور زمینی حقائق کا بھی جائزہ لیتی ہیں۔ اگر آج کے فیصلے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک دیتے ہیں اور اگر وہ انسانی المیوں کا سبب بنتے ہیں تو کل کی نسلیں سوال کریں گی کہ ان کے نام پر یہ سب کیوں کیا گیا؟ ریاستی پالیسیاں وقتی سیاسی فائدے کے لیے ترتیب دی جا سکتی ہیں مگر ان کے نتائج نسلوں تک پھیلتے ہیں۔
بھارت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ خود کو توازن اور سفارت کاری کی راہ پر ڈالے، کشمیر کو ہڑپنے اور پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے اس سہولت کاری اور خوشامد میں بدنام ہونے کے بجائے اصالت اختیار کرے، اپنا گھر صاف اور تنازعات حل کرے۔ ایسا کرنے سے اسکو بڑی طاقتوں کے آگے دم ہلانے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی اور عالمی تنازعات کے حل میں اسکا کردار بھی تب ہی با معنی ہوسکتا ہے۔ طاقتور بننے کا مطلب صرف ہتھیاروں یا بندرگاہوں کی پیشکش نہیں بلکہ امن کے لیے پل بننا بھی ہے اور اس ضمن میں اپنے کردار سے مثال قائم کرنا پڑتی ہے۔ اگر نئی دہلی یہ راستہ اختیار کرتی ہے تو وہ تاریخ کے مثبت پہلو پر جگہ بنا سکتی ہے،بصورت دیگر وہ ایک ایسے باب کا حصہ بننے کا خطرہ مول لے رہی ہے جسے آنے والی نسلیں ندامت کے ساتھ یاد کریں گی۔





