مضامین

منشیات کا فروغ بھی اور انسداد بھی؟

کشمیریوں کو توڑنے اور اجتماعی سزا دینے کی دو رخی پالیسی

ارشد میر

بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر میں جس منظم انداز میں خوف، جبر، بے یقینی اور اجتماعی سزا کی فضا قائم کی گئی ہےاس نے دنیا کی خود ساختہ "مہان جمہوریہ” کے چہرے سے نقاب اتار کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ صرف ایک ماہ کے دوران سات سو سے زائد کشمیریوں کی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے، خواتین کی تذلیل، جائیدادوں کی ضبطی اور نام نہاد انسدادِ منشیات مہم کے نام پر جاری کارروائیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت اب کشمیر کو ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک نوآبادیاتی کالونی کے طور پر چلا رہا ہے جہاں قانون، انصاف اور انسانی وقار کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔

بھارتی فورسز اور خفیہ ایجنسیاں نام نہاد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی نگرانی میں جس انداز سے کشمیری عوام کو نشانہ بنا رہی ہیں وہ کوئی سیکورٹی آپریشن نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی حملہ ہے۔ ان کارروائیوں کا اصل مقصد کشمیریوں کو ذہنی طور پر توڑنا، انہیں اپنی زمین اور شناخت سے محروم کرنا اور ان کے اندر آزادی کی خواہش کو کچلنا ہے۔ بھارت بخوبی جانتا ہے کہ بندوق کے زور پر وہ کشمیریوں کے دلوں سے حقِ خودارادیت کی تڑپ ختم نہیں کرسکتا، اسی لیے اس نے ایک زیادہ خطرناک حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے کہ کشمیری معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کیا جائے۔

ایک طرف جہاں دہائیوں سے جاری روائتی فوجی آپریشنز اور تحقیقاتی ایجنسیز کے ذریعہ کشمیریوں کو تحریک آزادی کے ساتھ وابستگی اور بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار ، نوکریوں سے برطرف اور زمین و جائیداد سے محروم کیا جاتا ہے وہیں دوسری طرف انسداد منشیات کے نام پر چلائی جانے والی مہم کے ذریعہ بھی انھیں گرفتار، دہشت زدہ اور بطور خاص گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کیا جارہا ہے۔ اس نام نہاد مہم کی آڑ میں انتظامیہ اب تک کشمیریوں کی بیسیوں املاک ضبط اور منہدم کر چکی ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چئیرمین میرواعظ عمر فاروق مقبوضہ علاقے میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ منشیات کے خلاف جاری مہم علاقائی تعصب پر مبنی نہیں ہونی چاہے اور گھر مسمار کرکے کسی بھی خاندان کو ہراساں نہیں کیاجانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ منشیات اور شراب دونوں معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور حکام ایک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دوسرے پر خاموشی اختیار کرنے کا جواز پیش نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا اگرچہ مقبوضہ جموں وکشمیرایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں سماجی اور مذہبی طور پر شراب نوشی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، لیکن غیر مسلم اکثریت والی متعدد بھارتی ریاستوں نے بھی شراب پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کیونکہ معاشرے پر اس کے مضر اثرات ہیں۔

اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں بلڈوزر کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس مہم کو کشمیری خاندانوں کو معاشی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ اس کالے دھندے میں ملوث پولیس اہلکاروں اور سرکاری مشینری میں بیٹھے لوگوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

انسدادِ منشیات کے نام پر چلائی جانے والی یہ مہم دراصل ایک گمراہ کن بیانیہ ہے۔ بھارت منشیات کے انسداد کے نام پر کشمیریوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنارہا ہے تاکہ اسکے جرائم انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ عجب معاملہ ہے کہ بھارتی حکومت کشمیری نوجوانوں کو مزاحمت کے راستے سے ہٹانے کے لئے خود مقبوضہ علاقہ میں منشیات، شراب اور بے راروی کو فراغ دے رہی ہے اور پھر اس کے انسداد کے نام پر کشمیری عوام کو حریت پسندی پر اجتماعی سزاء دیتی ہے۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو فوجی کیمپوں سے شراب فراہم کی جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا خطہ زمین جو دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماؤ اورSurveillanced علاقوں میں شمار ہے جہاں ہر دس افراد کے سر پر ایک فوجی سوار ہے ، جہاں ایک ایک فرد کی نگرانی کی جاتی ہے، ان کی سوشل میڈیا سے لیکر دیگر نجی سرگرمیوں پر بھی Checks ہیں، جو مکمل طور پر Sealed علاقہ ہے جہاں باہر کی دنیا کے میڈیا، مبصرین، انسانی حقوق کے کارکنان کو آنے کی اجازت نہیں ہے، وہاں یہ منشیات باہر سے کیسے آسکتی ہیں؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارتی ریاست خود کشمیری نوجوانوں کو اخلاقی اور ذہنی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ کشمیری حلقوں میں یہ بات مدتوں سے زیر بحث ہے کہ فوجی کیمپوں اور سیکورٹی نیٹ ورکس کے ذریعے شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کی فراہمی کو خاموش سرپرستی حاصل ہے۔ مقصد واضح ہے کہ نوجوان نسل کو مزاحمت، نظریے اور قومی شعور سے دور کرنا۔ ایک ایسا نوجوان جو منشیات کی دلدل میں دھنس جائے، وہ نہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سکتا ہے اور نہ اپنی قوم کے اجتماعی مقدر کے بارے میں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ جہاں ایک طرف کشمیری نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہےوہیں دوسری طرف انھیں منشیات کے نام پر اجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ گھروں پر چھاپے، جائیدادوں کی ضبطی، بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریاں اور خاندانوں کو ہراساں کرنا دراصل اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس نام نہاد مہم کی آڑ میں بیسیوں مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں اور لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں خوف زدہ اور غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ یہ وہی حربہ ہے جو قابض طاقتیں ہمیشہ محکوم اقوام کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں کہ پہلے معاشرے کو تباہ کرو، پھر اسی تباہی کا الزام انہی لوگوں پر لگا کر ان کے خلاف مزید جبر کو جائز قرار دو۔

کشمیر میں بھارتی پالیسی کی اخلاقی پستی کا اندازہ 2006 کے بدنام زمانہ سیکس اسکینڈل سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں کم عمر کشمیری لڑکیوں کو بلیک میل اور دھمکیوں کے ذریعے جنسی استحصال کرنے میں سابق وزراء، غلام احمد میر اور رمن متو سمیت کئی بھارت نواز سیاستدان ، سابق بی ایس ایف ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے سی پادھی، سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کشمیر پولیس محمد اشرف میر، شبیر احمد لانگو، شبیر احمد لاوے اور مقصود احمد، سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انیل سیٹھ سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران اور بیوروکرٹس ملوث پائے گئے تھے۔ یہ کوئی معمولی جرم نہیں تھا بلکہ ایک ایسا لرزہ خیز باب تھا جس نے پوری کشمیری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ محض چند افراد کی اخلاقی گراوٹ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس سے ایک پورے استحصالی نظام کی ذہنیت بے نقاب ہوئی۔ سب سے زیادہ لرزہ خیز بات وہ تھی جب سی آر پی ایف کے ایک افسر نے عدالتی کارروائی کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف کوئی عدالتی یا انضباطی کاروائی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ سب اس نے ڈیوٹی کے طور پر کیا۔ یہ جملہ دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی سوچ کی مکمل عکاسی کرتا ہے جہاں انسانی وقار، خواتین کی عزت اور اخلاقی حدود کو طاقت اور تسلط کے سامنے بے معنی سمجھا جاتا ہے۔

کشمیر کی سماجی ساخت کو تباہ کرنے کی یہ کوششیں نئی نہیں ہیں۔ نوے کی دہائی کے آخر میں سرینگر کے نالہ مار سے ملحق علاقوں میں جب مقامی عمائدین اور مسجد کمیٹیوں نے بے راہ روی کے خلاف بورڈ نصب کیے تو چند روز بعد سی آر پی ایف اہلکار آئے اور وہ بورڈ اکھاڑ دیے۔ اہلِ علاقہ کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ واقعات اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ بھارت صرف فوجی قبضے پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ وہ کشمیری معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرنا چاہتا ہے۔وہ منصوبہ بند طریقہ سے اور سرکاری سرپرستی میں بے راہ روہی، منشیات، اور شراب کو فروغ دے رہا ہے تاکہ کشمیری نوجوان ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ ہوجائیں، حصول آزادی کے مقصد اور نظریہ سے نابلد ہوجائیں اور وہ بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کے قابل نہ رہیں۔

ایک طرف بھارت دنیا کے سامنے ترقی، جمہوریت اور خواتین کے حقوق کے دعوے کرتا ہے اور دوسری طرف کشمیر میں اسی کے اہلکار خواتین کی بے حرمتی، نوجوانوں کی تذلیل اور پورے معاشرے کی اخلاقی تباہی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جس نے عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی خاطر اکثر ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کر لیتی ہیں۔

تاہم کشمیری عوام نے تمام تر ظلم و جبر کے باوجود جس استقامت، حوصلے اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہےوہ تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔ ہزاروں شہداء، لاپتہ افراد، یتیم بچے، بیوہ خواتین اور اجڑے ہوئے خاندان اس جدوجہد کی قیمت ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ہر گرفتاری کے بعد ایک نئی آواز اٹھتی ہے، ہر شہادت کے بعد آزادی کا جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔

بھارت شاید یہ سمجھتا ہے کہ گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی، منشیات کے پھیلاؤ اور اخلاقی تباہی کے ذریعے وہ کشمیریوں کی مزاحمت کو ختم کر دے گا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قابض طاقت ظلم کے ذریعے کسی قوم کی آزادی کی خواہش کو ہمیشہ کیلئے دفن نہیں کرسکی۔ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو مسلط کر سکتی ہے مگر دلوں میں جلنے والی آزادی کی شمع کو بجھا نہیں سکتی۔

آج کشمیر صرف ایک خطے کا نام نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہےبلکہ سوال یہ بھی ہے کہ دنیا اس سب پر کب تک خاموش رہے گی؟ کیا انسانی حقوق صرف طاقتور ممالک کے مفادات تک محدود ہیں؟ کیا خواتین کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور انسانی آزادی کے اصول کشمیر میں لاگو نہیں ہوتے؟ اگر عالمی برادری واقعی انصاف، انسانی وقار اور آزادی پر یقین رکھتی ہے تو اسےبھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری اس خاموش تباہی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔

اہل جموں و کشمیر کو دہشت، منشیات، بے راہ روی اور اجتماعی سزا کے ذریعے غلام بنانے کی کوششیں شاید وقتی طور پر کارگر ثابت ہوسکتی ہیں مگر وہ ایک ایسی قوم کے جذبۂ آزادی کو ختم نہیں کرسکتیں جو نسلوں سے قربانیاں دے رہی ہے۔ ظلم کی ہر رات بالآخر ختم ہوتی ہےاور تاریخ کا یہی سبق کشمیر کے باسیوں کو امید دیتا ہے کہ جبر کا یہ تاریک دور بھی ایک دن اختتام پذیر ہوگا۔ ان شاء اللہ

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button