سلمان ندوی کو پاکستان مخالف بیان پر تنقید کا سامنا
نئی دہلی: بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ مذہبی اسکالر سلمان ندوی ایک ایسے وقت میں پاکستان کے خلاف تبصرے کرنے پر سخت تنقید کی زد میں ہیں جب ہمسایہ ملک ایران پر صیہونی حملوں اور سرحد کے ساتھ پاکستانی چوکیوں پر افغان طالبان کے حملوں کے بعد ملک کو علاقائی سلامتی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ندوی نے پاکستان کی موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی اور اسے ”جابرانہ اور غیر منصفانہ “قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر غیر ملکی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں اور مبصرین نے انکے اس متعصبانہ بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات مودی حکومت کے پاکستان اور مسلم مخالف بیانیے کاحصہ ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے بارے میں ندوی کا لہجہ انکی قیادت سے ملاقات کے بعد اب نرم پڑ گیا ہے۔ اس ملاقات کا اہتمام بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کیا تھا۔ندوی نے اس ملاقات کے دوران طالبات کے اقدامات کو اپنی سرزمین کے مفادات کے حوالے سے جائز قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ندوی کے بیانات ان کے موقف میں واضح تضادات کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جہاں وہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، وہیں وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے دہائیوں سے جاری جدوجہد پر خاموش ہیں۔






