نریندر مودی کا امریکہ سے تجارتی معاہدہ سراسر عوام دشمن ہے جس پر انہیں استعفیٰ دینا چاہیے، کانگریس

جموں:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کانگریس نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا امریکہ کیساتھ تجارتی معاہدہ سراسر عوام دشمن ہیں لہذا انہیں چاہیے کہ وہ وقار ، عزت اور مفادات سے سمجھوتہ کرنے پر مستعفی ٰ ہوں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس مقبوضہ جموں وکشمیر شاخ کے صدر طارق حمید قرہ نے جموں کے آر ایس پورہ میں امریکہ مخالف تجارتی معاہدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے معاہدے کوکسان مخالف اور عوام دشمن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے ایپسٹین فائلوں اور امریکہ میں اڈانی کیس کے راز کے خوف سے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اس قدر پریشان اور خوفزدہ ہیں کہ ان سے امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ایران کے رہبر اعلیٰ کے قتل کی مذمت تک نہیں ہو پاتی حالانکہ ایران نے ہمیشہ بھارت کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی قیادت میں بھارت نے دنیا کے تمام اچھے دوست کھو دیے ہیں۔
قرہ نے کہا کہ کانگریس اس کسان مخالف معاہدے کی سختی سے مخالفت کرے گی اور 9 مارچ کو بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس کے افتتاحی دن مقبوضہ جموںوکشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر احتجاج کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی مذکورہ معاہدے کے خلاف اور جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے اپنے مطالبے پر زور دینے کیلئے ایک احتجاجی مارچ بھی کرے گی۔
کانگریس مقبوضہ جموںوکشمیر شاخ کے ورکنگ صدر رمن بھلا نے بھی بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر تنقید کی اور اسے کسانوں اور پھل کاشتکاروں کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا۔







