جنوری 1989 سے 22,991 کشمیری خواتین بیوہ اور11,275 کی بے حرمتی کی گئی

سرینگر:آج جب دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیری خواتین پر ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پرکشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق میں رئیس میر کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، پیراملٹری بارڈر سیکیورٹی فورس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے کشمیری خواتین پر ظلم وستم کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔1947 میں جموں کے قتل عام کے دوران ڈوگرہ فوجیوں نے ہندو جنونیوں کے ساتھ مل کر علاقے کی مسلم خواتین کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایاتھا۔ خاص طور پر جموں، راجوری، پونچھ اور کٹھوعہ میں ہزاروں مسلمان خواتین کو اغوا کیا گیا، انکی عصمت دری کی گئی اور ناقابل تصور مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ مسلمانوں کی نسل کشی کی ایک منظم کوشش تھی جس میں مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج نے سہولت فراہم کی تھی۔
1988 کی عوامی بغاوت کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے باربار اس بات کی نشاندہی کی کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوج، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور بارڈر سیکیورٹی فورس سمیت بھارتی فورسز خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔ 1989 کے بعد بھارتی فورسز نے چن چن کر کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنایا ،خواتین کی بے حرمتی کی اوربے گناہ لوگوں کو قتل ، گرفتاراورتشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے گھروں اور کاروباری مراکز کونذرآتش کردیا۔ بھارتی فورسز نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں حق خودارادیت کا مطالبہ کر نے والے شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائیاںکرتے ہوئے ان کی خواتین کی آبروریزی کی ۔ہیومن رائٹس واچ کی 1993 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے کشمیری شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے لئے عصمت دری کوایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق عصمت دری کے زیادہ تر واقعات محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران پیش آئے۔اکتوبر 1992 میں، ایشیا واچ گروپ اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس (PHR) کے نمائندوں نے کشمیر کا سفر کیا تاکہ عصمت دری اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی افواج کی طرف سے جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ بعد ازاں انہوں نے 9 مئی 1993 کو ”کشمیر میں عصمت دری“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنوری 1989 سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22 ہزار 991 خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ 11 ہزار 275 خواتین کو بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین پر بھارتی ریاستی دہشت گردی کے تباہ کن اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ جنوری 2001 سے اب تک کم از کم 690 خواتین کو بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے شہید کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد نفسیاتی مسائل کا شکار کشمیریوں کی اکثریت خواتین کی ہے۔رپورٹ میں کشمیری خواتین کے خلاف ہونے والے انتہائی گھناو¿نے جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی عصمت دری، شوپیاں میں آسیہ جان اور اس کی بھابھی نیلوفر جان کی عصمت دری اور قتل اور کٹھوعہ میں 8 سالہ آصفہ بانو کی عصمت دری اور قتل شامل ہیں۔ ان تمام واقعات سے بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو حاصل استثنیٰ کا کلچر بے نقاب ہوتاہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں ہزاروں خواتین اپنے بیٹوں، شوہروں، باپوں اور بھائیوں سے محروم ہوئیں جنہیں بھارتی فوجیوں نے گرفتارکرکے لاپتہ کیاہے۔ لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ 38 سالوں کے دوران 8000 کشمیری دوران حراست لاپتہ ہوئے جس سے مقبوضہ علاقے کی خواتین درد اور کرب میں مبتلا ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حریت رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تین درجن سے زائد کشمیری خواتین بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرکی جیلوں میں نظر بند ہیں جنہیں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔رپورٹ میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کاحوالہ دیا گیا جس سے سکول جانے والے ہزاروں بچے زخمی اور 100 سے زائد نابینا ہو گئے جن میں 19 ماہ کی حبہ جان اور 2 سالہ نصرت جان شامل ہیں۔ بھارتی پولیس نے چار سالہ زہرہ مجید کو 10 جولائی 2016 کو سرینگر کے علاقے قمرواری میں ان کے گھر کے باہرپیلٹ گن سے نشانہ بنایا اورس کی ٹانگوں اور پیٹ میں چھرے لگے۔ جولائی 2021 میں ایک پولیس کانسٹیبل اور اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) نے جموں کے دنسال علاقے میں ایک نابالغ دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی۔متعدد مائیں اور بیویاں اپنے لاپتہ بیٹوں اورشوہروں کے انتظار میں دم توڑ چکی ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں کئی دہائیوں سے بیوائیںاور نیم بیوائیں شدید مشکلات کی زندگی گزار رہی ہیں۔
کشمیری نوجوانوں سے شادی کرنے والی آزاد جموں و کشمیر کی 400 کے قریب خواتین کو ناانصافی کا سامنا ہے کیونکہ بھارتی حکومت انہیں نہ تو شہریت کے حقوق دے رہی ہے اور نہ ہی آزاد جموں و کشمیر واپس جانے کے لیے سفری دستاویزات فراہم کرتی ہے۔ ان کے بچوں کو بھی سرکاری سکولوں میں داخلے سے محروم رکھا جاتا ہے۔آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے ایک نوجوان سے شادی کرنے والی صبا فیاض نے بتایاکہ میں یہاں 2012 میں آئی تھی۔ میری والدہ کا حال ہی میں انتقال ہو گیا لیکن میں ان سے ملنے نہیں جا سکی ۔
کشمیر میں خواتین کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن کے تحت بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔رپورٹ میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنما ایاز اکبر کی اہلیہ رفیقہ بیگم کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیری خواتین کو بے پناہ سیاسی اور سماجی دباو¿ کا سامنا ہے ۔ رفیقہ بیگم 2021 میں کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں اور ان کے شوہر تہاڑ جیل میں نظربند تھے۔ایک اور متاثرہ خاتوں معروفہ معراج نے جو نظر بند حریت رہنما راجہ معراج الدین کلوال کی اہلیہ ہیں ، بتایا کہ طویل قید کی وجہ سے وہ اور ان کی بیٹیاں ڈپریشن کا شکار ہیں۔ رافعہ بیگم جن کے بیٹے اطہر مشتاق وانی کو بھارتی فوجیوں نے دسمبر 2020 میں سرینگر میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا تھا، انصاف اور اپنے بیٹے کی لاش کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے، جسے گاندربل میں زبردستی ایک بے نام قبر میں دفن کر دیا گیا تھا۔ایسی سینکڑوں ماو¿ں کو ناانصافی اور صدمے کا سامنا ہے کیونکہ ان کے بیٹے دوردراز علاقوںمیں نامعلوم قبروں میں دفن ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، خرم پرویز اور ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم سمیت سینکڑوں کشمیریوں کی مائیں، بیویاں اور بیٹیاں اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کر رہی ہیں جو بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرکی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔عالمی فریم ورک کے باوجودمقبوضہ جموں و کشمیر جیسے جنگ زدہ علاقوں میں خواتین کو تشدد، ہراسانی اور منظم امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری خواتین ملازمین کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے برطرف کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ملازمتوں سے برطرف کیے جانے والوں میں رضیہ سلطان، صائمہ اختر اور اصابہ الارجمند خان شامل ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا کہ عالمی برادری کشمیری خواتین کو درپیش مشکلات کو سمجھے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔1989 سے لے کر گزشتہ چار دہائیوں کے دوران مظالم برداشت کرنے والی کشمیریوں خواتین کے لئے انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔رپورٹ میں 1990 کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جنسی تشدد کے متعدد واقعات کا حوالہ دیا گیا جن میں 1991 کا کنن پوشپورہ اجتماعی عصمت دری بھی شامل ہے۔تازہ ترین واقعہ 2 مارچ 2026 کو پیش آیا جب سرینگر پولیس کے ایک ایس ایس پی نے علمگری بازار، حول چوک میں ایک جلوس کے دوران کم از کم چھ خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔







