مقبوضہ جموں وکشمیر:قابض حکام نے ایک اور کشمیری کی جائیداد ضبط کر لی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے ضلع ریاسی میں ایک اور کشمیری کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے ضلع کے مہور سب ڈویڑن میں محمد قاسم کی تین مرلہ اراضی ضبط کرلی۔بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ شخص آزادی پسند اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور جدوجہد آزادی کی حمایت کرتا ہے۔اس سے قبل ہفتے کو قابض حکام نے ضلع بارہمولہ میں سوپور کے علاقے نادی ہل میں تین کشمیریوں ریاض احمد لون، اعجاز احمد لون اور مشتاق احمد شاہ کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی تھی۔ بی جے پی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت نے اگست 2019 میں دفعہ370 اور 35A کی منسوخی اورعلاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیریوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔اس اقدام کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنا اور انہیں معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔کالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات کے حامل بھارتی فورسز کے اہلکار جائز سیاسی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کے جائز مطالبے کو دبانے کے لئے منظم طریقے سے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔






