مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال ،بھارت میں ایل پی جی کی شدید قلت
جنگ کے بھارت میں روزمرہ زندگی اور غذائی صنعت پر سنگین اثرات
نئی دلی:
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اورایران کی جوابی کارروائیوں کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے سنگین اثرات اب بھارت میں روزمرہ زندگی اور غذائی صنعت پر مزیدگہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت بھر میں ایندھن بالخصوص کمرشل ایل پی جی کی شدید قلت کے باعث لوگ مائع پیٹرولیم گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ ایل پی جی کے حصول کیلئے طویل قطاروں میں کھڑے نظر آرہے ہیں اور ریستورانوں کی رونقیں مانند پڑنے لگی ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جانے کے بعد ہوٹل انڈسٹری میں شدیدکھلبلی مچ گئی ہے۔ حیدرآباد اور تلنگانہ سے موصول ہونے والی اطلاعات سب سے زیادہ تشویشناک ہیں، جہاں تلنگانہ ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 90 فیصد ریستوران اگلے دو روز میں بند ہو سکتے ہیں۔کئی شہروں میں صورتحال یہ ہے کہ مقبولِ عام پکوان جیسے ڈوسہ اور بریانی کی دستیابی بھی محدود ہو گئی ہے۔ریستورانوں نے اپنے مینیو کارڈز مختصر کر دیے ہیں اور کھانے کے اوقات میں بھی کمی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ چھوٹے ڈھابے اور کھانے پینے کی دکانیں ایندھن کے محدود ذخائر کی وجہ سے سب سے پہلے متاثر ہوئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی گیس اور تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں پیدا ہونے والا معمولی سا ارتعاش بھی مقامی سطح پر بڑی قلت کا سبب بن رہا ہے۔صنعتی اداروں نے مودی حکومت کوخبردار کیا ہے کہ اگر ایل پی جی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں افراد بے روزگاراور یہ بحران معاشی صورت اختیار کر سکتا ہے۔







