مشرق وسطی میں جنگ کے اثرات: بھارتی باسمتی تجارت شدید متاثر
4لاکھ ٹن چاول کی برآمدی کھیپ بندرگاہوں پر پھنس گئی
نئی دہلی: مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ا ثرات بھارت کی زرعی تجارت پر بھی مرتب ہونے لگے ہیںاور باسمتی چاو ل کی تجارت اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً لاکھ ٹن باسمتی چاول کی برآمدی کھیپ اس وقت یاتو راستے میں پھنسی ہوئی ہے یا پھر بین الاقوامی بندرگاہوں پر رکی ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی برآمد کنندگان ، مل مالکان اور کسانوں کو اس صورتحال کے باعث شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ بھارت دنیا میں باسمتی چاول کا سب سے بڑا برآمد کندہ بتایا جا رہا ہے اور مشرق وسطی میں اس کی بڑی منڈی شمار ہوتی ہے جہاں ایران ، سعودی عرب، عراق ، متحدہ عرب امارات اوریمن ملکر تقریباً50فیصد برآمدات کا حصہ رکھتے ہیں ۔ بیرونی طلب میں اچانک کمی کے سبب ملک کی مقامی منڈیوں میںبھی باسمتی کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ درج کی گئی ہے اور بعض مقامات پر فی کوئنٹل تقریبا 1 ہزار روپے تک کم ہوگئی ہے ۔ ریاست مدھیہ پردیس کے رائسین اور نرمداپورم جیسے اضلاع میں جہاں سے بڑی مقدار میں باسمتی چاول برآمد کیے جاتے ہیں ، برآمدی آرڈرس میں اچانک کمی دیکھی گئی ہے ۔ شپنگ کمپنیاں بھی جنگی خطرات کے باعث اضافی چارجز عائد کر رہی ہیں۔ اپرنا فوڈ ملز ایسوسی ایشن رائسین کے صدر سچن ورما کا کہنا ہے کہ اضافی اخراجات کے باعث برآمد ی باسمتی کی قیمت میں فی کلو 8تا 10روپے اضافہ ہو گیا ہے ۔ تاجر پرنجال ملانی کے مطابق تقریبا 4لاکھ میٹرک ٹن باسمتی اس وقت بندرگاہوں یا راستے میں پھنسا ہوا ہے جس کے باعث ادائیگیوں میں تاخیر اور تاجروں پر مالی دباﺅ بڑھ گیا ہے۔کنٹینر کی لاگت جو پہلے تقریباً 1800ڈالر تھی ،ا ب بڑھ کر تقریبا ً3800ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔





