آسام : بی جے پی حکومت نے سابق بھارتی صدر فخرالدین علی احمد کا نام بارپیٹا میڈیکل کالج سے ہٹا دیا

گوہاٹی : بھارتی ریاست آسام میں بی جے پی حکومت نے مسلم اکثریتی ضلع بارپیٹا کے ایک میڈیکل کالج سے سابق صدر فخرالدین علی احمد کا نام ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقدام سے اگلے ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل اپوزیشن کانگریس اور ”آ ل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ“( اے آئی یو ڈی ایف) میںغم وغصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فخرالدین علی احمد میڈیکل کالج 2011 میں قائم کیا گیا تھا اور اس نے 2012 میں انڈرگریجویٹ کورسز شروع کیے تھے۔ اُس وقت آسام میں کانگریس کی حکومت تھی۔
بی جے پی حکومت کے اس اقدام سے کانگریس، اے آئی یو ڈی ایف اور علاقے کے مسلمانوں میں غم و غصے کی شدید لہر ڈوڈ گئی ہے۔ اے آئی یو ڈی ایف کے بدرالدین اجمل نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پورا مسلم معاشرہ دکھی ہے۔ بی جے پی کو نام ہٹانے سے کیا فائدہ یا سکون ملا ہے۔؟
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے سابق صدر فخرالدین علی احمد کا نام ہٹانے کے فیصلے پر سخت تنقید کی اور اس اقدام کو ایک ممتازآزادی پسند کی توہین قرار دیا۔انہوں نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ فخرالدین علی احمد نہ صرف ایک قابل احترام آزادی پسند تھے بلکہ وہ پہلے آسامی تھے جنہوں نے بھارت کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ نام ہٹانے کے بی جے پی حکومت کے فیصلے نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے، اقدام سے آسام کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے ۔ بی جے پی حکومت تقسیم کی سیاست کو آگے بڑھا رہی ہے۔
فخر الدین علی احمد نے 1974 سے 1977 میں اپنی موت تک بھارت کے پانچویں صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔





