مشرق وسطیٰ کا بحران، بھارتی منافقت عیاں، معیشت لرزاں، اپوزیشن و کسان نالاں
تحریر: ارشد میر
بھارت کی خارجہ پالیسی اور معاشی صورتحال اس وقت ایک سنگین بحران سے دوچار ہے جو مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور ایران پر جاری جنگ کے تناظر میں نہایت واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ ممبئی میں ایل پی جی کی شدید قلت اور روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات بھارت کی مشرق وسطیٰ پر توانائی کی انحصاریت بے نقاب کرتی ہے۔اطلاعات کے مطابق ممبئی کے 20 فیصد ہوٹل پہلے ہی بند ہو چکے ہیں جبکہ صنعت سے وابستہ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قلت برقرار رہی تو اگلے چند دنوں میں 50 سے 60 فیصد ریسٹورنٹس بھی بند ہو سکتے ہیں۔ کمرشل گیس سلنڈر بلیک مارکیٹ میں 3,000 بھارتی روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور سرکاری سطح پر 19 کلو گرام کے سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اقتصادی اور معاشرتی سطح پر بھارت شدید دباؤ میں ہے۔ ایل پی جی کی قلت، بڑھتی قیمتیں اور توانائی کی غیر مستحکم سپلائی نے صنعتوں، ہوٹلوں اور چھوٹے کاروباروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لوگ اشیائے خوردونوش کی قلت اور مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ملک کے زرعی شعبے پر بھی بحران اثر انداز ہوا ہے۔ ہریانہ میں بھارتی کسانوں نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ٹریکٹر مارچ کیا اور حکومت سے اس کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا۔ کسانوں کے مطابق یہ معاہدہ مقامی پیداوار اور زرعی روزگار کو شدید نقصان پہنچائے گا۔
یہ صورتحال بھارت کی توانائی کی غیر مستحکم صورتحال اور ناقص حکمرانی کا مظہر ہے۔ بھارت کی ایل پی جی درآمدات کا تقریباً 46.9 فیصد اور ایل این جی کی 68.4 فیصد درآمدات مشرق وسطیٰ سے ہوتی ہیں جو اس وقت تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ اگرچہ مودی حکومت توانائی میں خود کفالت کے نعروں کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عوام قلت، مہنگائی اور کاروبار کی بندش کا سامنا کر رہے ہیں جو حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور ناکافی تیاری کو عیاں کرتی ہے۔
اسی دوران نریندر مودی کی حکومت نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے حوالے سے اپنی واضح پوزیشن سے گریز کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی جس نے بھارت کی تزویراتی پوزیشن کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے سامنے مودی کے غیر اصولی اور خوشامدی رویے پر بھارتی حزب اختلاف نے پارلیمنٹ کے دروازے پر احتجاج کیا اور حکومت کو خطے میں جاری بحران اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے جوابدہ قرار دیا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کے قومی مفادات کے بجائے ذاتی تعلقات اور مغربی طاقتوں کی خوشنودی کو ترجیح دی ہےجس کے اثرات عام شہریوں، تاجروں اور کسانوں پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔
بھارت کی 1.4 ارب آبادی میں تقریباً 1.6 کروڑ سے 4 کروڑ شیعہ مسلمان شامل ہیں جو ایران کے بعد دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی ہے۔ یہ کمیونٹی بھارت کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے لیکن مودی حکومت نے ایران پر حملے اور مشرق وسطیٰ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں شفافیت سے گریز کیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس دینا کے ڈوبنے، مغربی ایشیا میں بھارتی تجارت اور وہاں مقیم تقریباً 90 لاکھ بھارتی شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا۔
مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اخلاقی بنیاد بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل کی کھلی حمایت اور ایران کے خلاف خاموشی نے بھارت کو عالمی سطح پر ایک خطرناک پوزیشن میں لا کھڑاکردیا ہے۔ بین الاقوامی جریدے ڈپلومٹ کے مطابق بھارت نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت نہ کی جس سے بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ مودی کے اسرائیل کے دورے اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کا کھلا رابطہ، ایران پر حملے سے صرف 48 گھنٹے قبل دورہ اسرائیل، بھارت کے قومی مفادات کے بجائے ذاتی تعلقات کی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔
مشہور بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے اس رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بزدلانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے عوامی مفاد کی بجائے مغربی طاقتوں کے دباؤ میں بھارت کی خودمختاری کو قربان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی داخلی پالیسی میں اختلافی آوازوں کو دبانا اور جھوٹے مقدمات کے ذریعے مخالفین کو نشانہ بنانا، جمہوریت کی بنیادوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیانے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کوامریکی کالونی کے طور پر پیش کئے جانے کے تاثر پر مودی سرکار کو وضاحت پیش کرنی چاہئے۔
مجموعی طور پر یہ کہ ایران پر مسلط جارحیت اور مشرق وسطیٰ کے بحران نے بھارت کی توانائی کی کمزوری، اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی اور سیاسی منافقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ملکی توانائی کے انحصار، بڑھتی مہنگائی، کسانوں اور صنعتوں کی مشکلات اور عالمی سطح پر بھارت کی اخلاقی کمزوری، سب مل کر ملک کے داخلی اور خارجی چیلنجز کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ بحران نہ صرف بھارت کی داخلی معیشت بلکہ عالمی سطح پر اس کی سیاسی ساکھ، خارجہ پالیسی اور عالمی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔
یہ منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ بھارت کی توانائی کی غیر مستحکم صورتحال، مشرق وسطیٰ میں ناقص حکمت عملی اور سیاسی منافقت نہ صرف عوام کے روزمرہ کے مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ملک کے طویل المدتی مفادات، خودمختاری اور عالمی ساکھ کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ خارجہ پالیسی میں لومڑی اور لگڑ بھگوں والی روش دور کرے، عالمی امن کے قیام کے لئے کشمیر و فلسطین کے مسائل کے لئے حل کے لئے اصول و حقائق پر مبنی کردار ادا کرے، اپنی توانائی کی پالیسی کو مستحکم کرےاور داخلی معیشت و سماجی نظام کو ایسی بنیادوں پر مضبوط کرے جو مشرق وسطیٰ کے بحران کے منفی اثرات کو کم کر سکے۔








