وشوءگرو’ کی بدحال فوج: دشمن سے کم، اپنے نظام سے زیادہ شکست خوردہ
ارشد میر
بھارت ایک ایسا ملک ہے جو خود کو “وشو گرو” (دنیا کا رہنما) بننے کا دعوی کرتا یا اپنے عوام کو خواب دکھاتا ہے مگر اس خواب کی حقیقت کچھ ایسی ہے کہ اگر پردہ ہٹایا جائے تو اندر سے ایک ٹوٹا ہوا نظام، ناانصافی، بد انتظامی، طبقاتی، قومی، سیاسی، معاشی اور نفسیاتی تقسیم یہاں تک کہ پراگندہ فوج اور نظرانداز کیے گئے سپاہی نظر آتے ہیں۔ حالیہ تین رپورٹس نے اس نام نہاد سپر پاور کے اس دعوے کو اس طرح بے نقاب کیا ہے کہ اس کے نظام کی سڑن اور خستہ حالی صاف نظر آتی ہے۔
پہلی رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر وپل یادو کی خودکشی اور سی آر پی ایف کے جوانوں کا اپنی ہی سروس رائفل سے خود کو گولی مار لینے کے واقعات کا تذکرہ ہے۔ یہ واقعات کسی ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا اعلان ہیں۔ جس فوج کو بھارت اپنی طاقت کا ستون قرار دیتا ہے وہاں اگر سپاہی دشمن کی گولی سے کم اور اپنے ہی ہاتھوں زیادہ مر رہے ہوں تو پھر “وشو گرو” کا خواب نہیں بلکہ “وشو بحران” کا کیس بنتا ہے۔
بھارتی میڈیا، جو ہر وقت حب الوطنی کے ترانے گاتا ہے اور بھارت کو عظیم طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، ایسے حساس معاملات پر بھی حقیقت دکھانے کے بجائے کہانی گھڑ لیتا ہے۔ وپل یادو کی خودکشی کو گھریلو جھگڑوں سے جوڑ دینا اس بات کی واضح مثال ہے کہ اصل مسئلے یعنی ذہنی دباؤ، ناقص قیادت اور غیر انسانی سسٹم کو چھپانے کے لیے کیسے بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ گویا اگر کوئی افسر 15 سال تک ملک کی خدمت کے بعد خودکشی کرے تو قصور اس کی بیوی کا ہے، سسٹم کا نہیں! یہ وہی منطق ہے جس سے شاید بھارت دنیا کو لیڈ کرنا چاہتا ہے۔
اعداد و شمار اس معاملے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ 2017 سے 2022 کے درمیان 800 سے زائد بھارتی فوجی خودکشی کر چکے ہیں جبکہ 2020 سے 2024 کے دوران 700 سے زائد نیم فوجی اہلکار اپنی جان لے چکے ہیں۔ ایک طرف بھارت دنیا کو سکیورٹی کا درس دیتا ہے اور دوسری طرف اس کے اپنے محافظ ذہنی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر خود آئی سی یو میں پڑا ہو اور دوسروں کو صحت کے مشورے دے رہا ہو۔
قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوج دنیا کی ان افواج میں سر فہرست ہے جن کے ہاں خودکشیوں اور ہلاکت خیز آپسی جھڑپوں کا بہت زیادہ رجحان ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج میں یہ بدحالی دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ بھرتی کے نظام میں نرمی کرنے کے باوجود جونئیر افسران کی بہت زیادہ قلت ہے جس کی وجہ سے فوج میں کمان اینڈ کنٹرول اور انتظامی مسائل زیادہ ہیں۔
یہ مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ بھارتی فوج دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر اور شمالی ریاستوں میں آزادی اور بغاوت کی تحاریک کو کچلنے میں لگی ہوئی ہے چنانچہ اس کی وجہ سے بھی اس کی نفسیات و اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور اسکی پیشہ ورانہ صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔ قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قریبا دس لاکھ فوج تعینات ہے یا دوسرے الفاظ میں بھارت دس لاکھ فوج کے ذریعہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے عوام کے خلاف 35 برسوں سے مسلسل فوجی آپریشن کررہا ہے جس نے خود بھارتی فوج کے مورال و نفسیات کو بھی بری طرح متاثر کیا۔
1994 میں میجر جنرل شرما کی سرکردگی میں بھارتی فوج کی ایک میڈیکل کور کی ٹیم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی نفسیاتی اور ذہنی جانچ کی اور پھر واپس جاکر اپنی تحقیقی رپورٹ میں 80 فیصد فوجیوں کو نفسیاتی طور پر ان فٹ اور آپریشن کے کے لئے ناقابل قرار دیا تھا۔ اگرچہ بھارتی حکومتوں نے وقتاً فوقتاً اپنی فوج کو آمادہ رکھنے کے لئے انکی سہولیات و مراعات میں خاصا اضافہ کیا، انکے لئے تفریح اور انعامات کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں رہائشی کی کواٹر قائم کرکے انھیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہنے کا بندوبست بھی کیا تاہم اسکے باوجود بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں اور برادر کشی کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔
دوسری رپورٹ میں بھارتی فوجیوں کی “پراسرار اموات” کا ذکر ہے، جنہیں اکثر “ہارٹ اٹیک” کا نام دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔ نائک تلک سنگھ کی لائن آف کنٹرول پر ڈیوٹی کے دوران موت ہو یا کیپٹن امن کمار سنگھ جیسے نوجوان افسر کا اچانک گر کر جان دے دینا، یہ سب محض طبی حادثات نہیں بلکہ ایک ایسے سسٹم کا نتیجہ ہیں جہاں سپاہی کو انسان نہیں بلکہ مشین سمجھا جاتا ہے۔
بھارتی عدالتیں بھی اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ مسلسل تعیناتی، افسران کی بدسلوکی، نیند کی کمی، خاندانی دوری اور “زیرو ایرر سنڈروم” فوجیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیتا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس اعتراف کے باوجود کوئی سنجیدہ اصلاحات نظر نہیں آتیں۔ گویا مسئلہ تسلیم کرنا کافی ہے، حل تلاش کرنا ضروری نہیں۔ شاید یہی وہ فلسفہ ہے جس کے تحت بھارت خود کو عالمی رہنما سمجھتا ہے۔
ایک ایسا ملک جو چاند پر ناکام مشن بھیجنے پر فخر کرتا یہاں تک چاند کو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے، وہ اپنے فوجیوں کو مناسب آرام، ذہنی سکون اور بنیادی سہولیات دینے میں ناکام ہے۔ ٹیکنالوجی میں ترقی ضرور ہوئی ہے مگر انسانی ہمدردی کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔
تیسری رپورٹ اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ اور تلخ پہلو سامنے لاتی ہے جس میں درج ہے کہ جن سابق فوجیوں کو گھوڑے گدھوں اور کرایہ کے قاتلوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انکا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ گویا انھیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا گیا ہے۔انہی میں سے ایک اہلکار وکاس گرجار کا حکومت پر کھلا الزام اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف حاضر سروس اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ جن لوگوں کو کل تک “ہیرو” کہا جاتا تھا، آج وہ پنشن، مراعات اور بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور ہیں۔
یہ وہی بھارت ہے جہاں انتخابات کے دوران فوجیوں کی قربانیوں کو خوب بیچا جاتا ہے مگر الیکشن ختم ہوتے ہی وہی فوجی اور سابق فوجی پس منظر میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ اس رویے کو اگر سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ “استعمال کرو اور بھول جاؤ” کی پالیسی ہے۔
بھارت دنیا کو جمہوریت، انسانی حقوق اور فلاحی ریاست کے لیکچر دیتا ہے جبکہ اس کے اپنے سپاہی اور سابق سپاہی بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں۔ اگر یہی “وشو گرو” کا ماڈل ہے تو دنیا کو واقعی اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
ان تینوں رپورٹس کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو خود ساختہ وشوء گرو کی مہان سینا کی ایک خوفناک تصویر سامنے آتی ہے:
ایک طرف ذہنی دباؤ کے باعث خودکشیاں، دوسری طرف پراسرار اموات، اور تیسری طرف سابق فوجیوں کی بے بسی۔ یہ سب مل کر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بھارتی فوج کا مسئلہ صرف سکیورٹی یا حکمت عملی کا نہیں بلکہ ایک گہرے انسانی بحران کا ہے۔
مگر بھارت کی بدقسمتی یا شاید خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کے پاس ایک مضبوط پروپیگنڈا مشین موجود ہے جو ہر ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی سپاہی مر جائے تو اسے “قربانی” بنا دیا جاتا ہے اگر خودکشی کرے تو اسے “ذاتی مسئلہ” قرار دے دیا جاتا ہے اور اگر کوئی سابق فوجی احتجاج کرے تو اسے “غیر اہم آواز” کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسا ملک جو اپنے محافظوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا واقعی دنیا کی رہنمائی کا دعویٰ کر سکتا ہے؟
جو فوج اپنے ہی دباؤ کا شکار ہو وہ عالمی امن کا ضامن کیسے بن سکتی ہے؟
اور جو ریاست اپنے ہی ہیروز کو بھلا دے وہ دوسروں کے لیے مثال کیسے بن سکتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا “وشو گرو” کا خواب بھارتی عوام کو لبھانے اور خوش کرنے کے لئے ایک خوبصورت نعرہ ضرور ہے مگر زمینی حقائق اس کی قلعی کھول چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا محل ہے جو ریت پر کھڑا ہے، باہر سے چمکدار، اندر سے کھوکھلا۔








