پانی کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ، ہماری تہذیب اور معاشی مستقبل پر حملہ ہے، مصدق ملک

اسلام آباد:پاکستان نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے تہذیب، معاش اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہماری تہذیب، معاش اور ہمارے معاشی مستقبل پر حملہ ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہارعالمی یومِ آب کی مناسبت سے منعقدہ ایک اعلی سطح کی تقریب میں اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ظاہر کیا۔ اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہ تقریب کا موضوع پانی اور صنفی مساوات تھااور اس کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں تاجکستان کے مستقل مشن نے کیاتھا جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس کی مشترکہ میزبانی کی۔وفاقی وزیر نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ہم اپنے خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تنازعات کے گہرے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ہمارے ہمسایہ ملک کا یکطرفہ طور پر پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے جو تقریبا چھ دہائیوں سے قائم ہے کو معطل کرنا نہایت تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اس نوعیت کا اچانک اور یکطرفہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک دیرینہ تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارے لیے پانی فطرت ہے، پانی انسانیت ہے، پانی ہماری تہذیب ہے۔ ہمارے لیے پانی زراعت ہے۔ ہم ایک زرعی معاشرہ ہیں جو عملی طور پر پانی اور زراعت کے سنگم پر قائم ہے۔انہوں نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں زراعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کا تقریبا 25 سے 30 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ تقریبا نصف افرادی قوت اسی شعبے سے روزگار حاصل کرتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی مکمل طور پر زرعی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث پانی کا مثر انتظام قومی بقا اور خوشحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ خواتین کی مجموعی ملازمت کا 61 فیصد سے زائد حصہ زراعت سے منسلک ہے، جو پانی تک رسائی، خواتین کے بااختیار ہونے اور معاشی بہتری کے درمیان براہِ راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں موسمیاتی آفات کے انسانی اور سماجی اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔






