پاکستان کابھارت کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی خریداری پراظہار تشویش

اسلام آباد:پاکستان نے بھارت کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی مسلسل خریداری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کے اقدامات سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور دنیا کو بھارت کی اسلحہ اندوزی پر سخت تشویش ہے۔ترجمان نے بھارت پر زوردیاکہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے۔انہوں نے کہاکہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیاکہ ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا کوئی اختیارحاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے ضمنی فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے جوکہ پاکستان کے موقف کی توثیق ہے۔شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے بارہا عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی حالت زار کی جانب مبذول کرائی ہے۔ سینئر کشمیری حریت رہنما شبیر احمد شاہ گزشتہ آٹھ سال سے دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ شبیر احمد شاہ کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جو جیل میں علاج کے قابل نہیں جبکہ بھارتی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔انہوں نے شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اتراکھنڈ میں مزارات کی مسماری بھارت کی مسلم دشمنی کی عکاس ہے۔انہوں نے واضح کیاکہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم اور عالمی فورم ہے۔ ایس سی او وزرائے دفاع کانفرنس کے موقع پر بھارتی مشیر قومی سلامتی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جنوب ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس جب بھی ہو گا پاکستان میں ہو گا اور پاکستان ہی سارک اجلاس کی میزبانی کرے گا، ہم سارک سربراہ اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں لیکن صرف ایک ملک بھارت اس اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان سارک چارٹر کے اصولوں کے حوالے سے پرعزم ہے لیکن سارک کے غیر فعال ہونے کی بنیادی وجہ ہمارا مشرقی ہمسایہ بھارت ہے۔








