بھارت کی پراکسی جنگ کی وجہ سے علاقائی استحکام کوخطرہ لاحق ہے: تجزیہ کار

اسلام آباد : سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے پراکسی جنگ میں بھارت کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور پاکستان اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اس کی خفیہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں پر حملے کرانے کے لیے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت عسکریت پسند پراکسیز کی مالی معاونت کررہی ہے۔ انہوں نے 2025 میںجعفر ایکسپریس پر حملے جیسے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے غیر ملکی سرمایہ کاری کو روکنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔انہوں نے دی گارڈین کی طرف سے رپورٹ کردہ انکشافات کا حوالہ دیا جس میں کہاگیا ہے کہ بھارت نے بیرون ملک ٹارگٹڈ قتل کرانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ تجزیہ کاروں نے شاہد لطیف اور بشیر احمد پیر کے کیسز کو غیر ملکی سرزمین پر کیے گئے ماورائے عدالت کارروائیوں کی مثالیں قرار دیا۔تجزیہ کاروں نے علاقائی پہلوﺅں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسی کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کو مدد اور جدید ہتھیار فراہم کرکے دہرا کھیل کھیل رہاہے اور بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف علاقوں میں سرحد پار سے حملوں میں سہولت فراہم کررہاہے۔انہوں نے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر خودکش حملے سمیت تشدد کی حالیہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کو پراکسی نیٹ ورکس کی کارروائیاں قراردیا جن کی سرپرستی بھارتی ہنڈلرزکررہے ہیں تاکہ پاکستان کی گورننس اور قانونی اداروں کو کمزور کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کلبھوشن یادو کی گرفتاری جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا اہم ثبوت ہے۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاو¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی تحقیقات سے ایسے نیٹ ورکس کا انکشاف ہوا ہے جن میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے اور حملے کرانے کے لیے انہیں بنیاد پرستی کی تر بیت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کی کارروائیاں پاکستان کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک تک پھیلائی گئی ہیں جو ایک وسیع تر حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اوریہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔تجزیہ کاروں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان دہشت گردانہ سرگرمیوں کا سنجید ہ نوٹس لے اور بھارت پر دباو¿ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے۔







