بھارت

اترپردیش: الہ آبادہائیکورٹ نے سہارنپور کلکٹریٹ مسجد انہدام پر یوگی حکومت سے جواب طلب کر لیا

لکھنو:ریاست اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع مسجد کو منہدم کیے جانے کے معاملے پر الہ آباد ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے اہم احکامات جاری کیے ہیں۔
ہائیکورٹ نے اتر پردیش کی یوگی حکومت سے جوابی حلف نامہ طلب کیا ہے جس کیلئے تین ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔عدالت نے سہارنپور سٹی مجسٹریٹ کی طرف سے مسجد پر 6کروڑ 41لاکھ روپے ہرجانہ عائد کیے جانے پر بھی روک لگا دی ہے۔ ہائیکورٹ نے مقدمے کی آئندہ سماعت 12اکتوبر کو مقرر کر دی ہے۔
عدالت میں یہ درخواست مسجد کمیٹی کے متولی تنویر احمد نے دائر کی ہے جس پر جسٹس روہت رنجن اگروال کی یک رکنی بنچ نے گزشتہ روز سماعت کی ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سٹی مجسٹریٹ اور ضلعی جج کی طرف سے جاری کیے گئے احکامات ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ نے 16جولائی کو جاری اپنے حکم میں مسجد خالی کرنے اور 6کروڑ اور 41لاکھ روپے جرمانہ اداکرنے کا حکم دیا تھا، سٹی مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی جسے ضلعی جج نے 2ستمبر کو خارج کر دیا ۔
بعد ازاں حکام نے 5ستمبر کی صبح کلکٹریٹ احاطے میں 315مربع میٹر رقبے پر قائم سو برس سے زائد قدیم مسجد پر بلڈوزر چلا دیا ۔ مسجد کو منہدم کیے جانے کے بعد اسکا ملبہ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریبا 10کلو میٹر دور مختلف مقامات پر پھینک دیا گیا تھا۔ ملبے کو دیکھنے کیلئے کچھ مسلمان جب وہاں پہنچے تو انہوں نے کچھ اینٹوں پر 1911اور کچھ پر 1909لکھا ہوا پایا ۔ جب ان اینٹوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں تو ایک نئی ہلچل مچ گئی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button