مقبوضہ جموں وکشمیر کے اخبارات امتیازی اشتہاری پالیسی کا شکار
انسانی حقوق کی پامالیوں کا پردہ چاک کرنے والے اخبارات اشتہارات سے محروم

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا پردہ چاک کرنے والے مقامی اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی فراہمی میں منظم امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رکن اسمبلی اور جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق نے ایوان کو بتایا کہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں واضح بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فش آئی، لیک ویو، برگی، چنار، بیخوف شنکھ، جمبو، بھومی، تیسری آنکھ اور تیسری دنیا جیسے غیر معروف اشاعتوں کو اشتہارات دیے جا رہے ہیںجبکہ گریٹر کشمیر، ایکسلیئر، اسٹیٹ ٹائمز، رائزنگ کشمیر، کشمیر عظمیٰ، کشمیر ٹائمز، کشمیر لائف، آفتاب، سری نگر ٹائمز اور تمیل ارشاد جیسے معروف اخبارات کو انکی پیشہ ورانہ حیثیت کے باوجود نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا 2020 کی اشتہاری پالیسی پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا تاکہ میڈیا کے معتبر اداروں کے ساتھ انصاف، شفافیت اور مساوی سلوک کو یقینی بنایا جا سکے۔







