
سرینگر: ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے جموں خطے کے ضلع رام بن میں گائو رکھشکوں کی جانب سے کشمیری نوجوان تنویر احمد چوپان اور بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں گاندربل کے نوجوان راشد مغل کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، 25 سالہ تنویر احمدایک منی ٹرک میں ایک گائے اور دو بچھڑوں کو لے کر جموں سے اپنے آبائی گاؤں منڈکھل جا رہا تھا کہ کامارکوٹ میں اسے روک لیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سمیت ہندوتوا گروہوں سے وابستہ نام نہاد "گائو رکھشکوں”نے اس پر حملہ کر دیا۔ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاہے کہ "ایسے اقدامات احتساب، شفافیت اور قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں نوجوانوں کا قتل نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اورمتاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی پر زور دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ "ایسے واقعات کا بار بار پیش آنا منظم طریقے سے ہونے والے قتل عام کے ایک سنگین رحجان کو ظاہر کرتا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے غیر قانونی طور پر نظر بند پارٹی چئرمین شبیر احمد شاہ اور دیگر کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی طویل نظر بندی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ترجمان نے ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے پرزور دیا۔انہوں نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے انصاف، مذاکرات اور انسانی حقوق کے احترام کو ضروری قرار دیا۔دریں اثنا، ڈی ایف پی کے ترجمان نے بھارتی حکومت سے جیل میں قید انجینئر رشید کی انسانی بنیادوں پر رہائی کی اپیل تاکہ وہ سرینگر کے ہسپتال میں داخل اپنے والد سے ملاقات کر سکیں۔






