بھارت

این آئی اے کا عدالت سے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کامطالبہ

نئی دہلی : بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے ایک جھوٹے مقدمے میں دہلی ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ جیل میں نظر بند کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی سزا میں اضافہ کیا جائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے نے اپنے نئے حلف نامے میں محمد یاسین ملک کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا جو پہلے ہی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جس پر انسانی حقوق کے کارکن اور سیاسی مبصرین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ این آئی اے نے یاسین ملک کے اس دفاع کو کہ انہوں نے تنازعہ کشمیر پر بھارتی حکومتوں اور پاکستان کی قیادت سے مسلسل بات چیت کی ہے،مسترد کر تے ہوئے کہا اس طرح کے سیاسی اور سفارتی تعاملات کا الزامات سے کوئی تعلق نہیں۔این آئی اے نے الزام لگایا کہ یاسین ملک کے پاکستان کے وزیر اعظم، صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطوں کا مقصدمقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا تھا۔ این آئی اے نے دعویٰ کیاکہ یاسین ملک کا بھارت کے سیاست دانوں، بیوروکریٹس، میڈیا شخصیات اور غیر ملکی مندوبین کا حوالہ دینے کا مقصدہمدردی اور مقبولیت حاصل کرنا ہے۔ایجنسی نے یاسین ملک کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ساتھ وابستگی کا بھی حوالہ دیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات کشمیر کی جائز سیاسی جدوجہد کوجرم بنانے اور آزادی پسند قیادت کو عدالتوں کے ذریعے خاموش کرانے کی بھارت کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔سماعت کے دوران یاسین ملک نے عدالت کو مطلع کیا کہ انہیں این آئی اے کے نئے حلف نامے کی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے جس کے بعد کیس کی سماعت جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔ کیس کی سماعت جسٹس نوین چاولہ اورجسٹس رویندر دودیجا پر مشتمل ڈویڑن بنچ کر رہا ہے۔سیاسی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کی تحریک کو دبانے کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنماو¿ں اور کارکنوں کے خلاف عدالتوں اور کالے قوانین کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button