اوڈیشہ ہائی کورٹ کا مسلم شخص پر ہندوانتہاپسندوں کے حملے اور ہندوتوا نعرے لگوانے کے واقعے کی تحقیقات کا حکم
بھونیشور: بھارت میں اوڈیشہ ہائی کورٹ نے پولیس کو مسلم شخص پر ہندوانتہاپسندوںکے حملے اور اسے ہندوتوا نعرے ”جے شری رام ”لگانے پر مجبور کرنے کے واقعے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس ساوتری راتھو پر مشتمل ہائی کورٹ کے بنچ نے یہ حکم متاثرہ شخص کے والد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے بعد جاری کیا ۔ درخواست میں واقعے کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیاہے۔رواں سال3 جنوری میں پیش آنے والے اس واقعے میں اڈیشہ کے ضلع میور بھنج میں ہندوانتہاپسندوں کے ایک گروپ نے مذکورہ شخص پر وحشیانہ تشدد کرتے ہوئے اسے سڑکوں پر گھسیٹاتھا اور جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیاتھا۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی ۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں ملوث دو ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔ عدالت نے واقعے کی مکمل تفتیش یقینی بنانے کے لیے تحقیقات ڈی ایس پی کی سطح کے اعلیٰ افسر کی نگرانی میں کرانے کا حکم جاری کیا ۔








