پہلگام فالس فلیگ آپریشن ، بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام
پاکستان اہم عالمی تنازعات میں موثر ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ،ڈوئچے ویلے
اسلام آباد:
جرمن نشریاتی ادارے ”ڈوئچے ویلے”کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن ایک سال بعد بھی بھارت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی اپنی مذموم مہم میں کامیاب نہیں ہو سکاہے ، بلکہ پاکستان اہم عالمی تنازعات میں ایک موثر ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ڈبلیو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن میں 26سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان پر ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کا الزام عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی۔ اس کے باوجود بھارت نے آپریشن سندور شروع کرتے ہوئے پاکستان پر بلا اشتعال حملے کیے، جس سے دونوں جوہری ہمسایہ ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کیلئے اپنے وفود 32ممالک میں بھیجے۔پاکستان نے بھی اپنے پارلیمانی وفود مختلف ممالک روانہ کر کے دنیا کو اپنے موقف سے آگاہ کیا اور بھارت کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ پاکستان نے اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید موثر بناتے ہوئے امریکی صدرڈونلڈکی انتظامیہ سے قریبی روابط استوار کیے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔اسٹمسن سینٹر کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیاء پروگرام ایلزبتھ تھرل کڈ کے مطابق پاکستان نے بخوبی سمجھ لیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کیا چاہتی ہے اور اس نے سول و عسکری قیادت کی سطح پر ذاتی تعلقات استوار کر کے سفارتکاری کو موثر بنایا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کی سے تعریفیں سمیٹ رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے علاوہ چین اور امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات نے اسے فطری ثالث بنا دیا ہے، جبکہ بھارت خود کو گلوبل ساتھ کا لیڈر ثابت کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی فعال سفارتکاری نہ صرف دنیا بلکہ خود بھارت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔







