جامعہ سراج العلوم پر پابندی: مذہبی آزادی اور تعلیمی خودمختاری پر حملہ ہے ، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزادجموں و کشمیرشاخ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی حکومت کی طرف سے معروف دینی و تعلیمی ادارے جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیرشاخ کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں مودی حکومت کے اس اقدام کو کشمیریوںکی مذہبی آزادی، تعلیمی خودمختاری اور شناخت پر ایک سنگین اور ناقابلِ قبول حملہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدام کوئی معمول کی انتظامی پیش رفت نہیں بلکہ بھارت کی ایک منظم اور طویل المدتی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے اثرات مقبوضہ کشمیر کی مذہبی، تعلیمی اور سماجی ساخت پر گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے نہ صرف مقامی آبادی میں شدید اضطراب اور بے چینی کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی صورتحال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدام ایک ایسے ماحول میں سامنے آئی ہے جہاں پہلے ہی مسلم تشخص ،شہری آزادیوں، اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی خودمختاری کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مدرسے پر کالے قانون یو اے پی اے کا اطلاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں کالے قوانین کے ذریعے اب تعلیمی اور مذہبی اداروں کوبھی نشانہ بنا یا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سراج العلوم فکری تربیت اور ثقافتی شناخت کا محافظ ہے اور اس کے خلاف کارروائی کشمیریوں کے اجتماعی تشخص پرایک حملہ ہے۔ انہوں نے مساجد کی نگرانی اور پروفائلنگ کی رپورٹوں کو بھی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ نے کہاکہ یہ پابندی مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اور تعلیمی اداروں کی خود مختاری کو محدود کرنے کی ایک ساز ش ہے






