بھارت

نئی دلی: کچرا ٹھکانے لگانے کا ناقص نظام،شہرکے ماحولیات کو سنگین چیلنجز کا سامنا

نئی دہلی:بھارتی دارلحکومت دہلی میں ویسٹ مینجمنٹ کے ناقص نظام پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، مبصرین شہری ترقی کے سرکاری دعووں اور شہر کے زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دلی میں ویسٹ مینجمنٹ (کچرا ٹھکانے لگانے) کا نظام طویل عرصے سے مسائل کا شکار ہے اور شہر کو ماحولیات اور لوگوں کی صحت کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔غازی پور، اوکھلا اور بھلسوا جیسی لینڈ فل سائٹس اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ کچرے سے بھری ہوئی ہیں اورکچرے کے انتظام کے ناقص نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
کچرے کو گھر کی سطح پر خشک اور گیلے کچرے میں الگ نہ کرنے کی وجہ سے ری سائیکلنگ کا عمل مشکل ہو جاتا ہے، جس سے لینڈ فلز پر بوجھ بڑھتا ہے۔ شہر میں موثر ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس کی کمی ہے اور اگرچہ نئے پلانٹس لگائے جا رہے ہیں، لیکن کچرے کی بھاری مقدار کے مقابلے میں ان کی صلاحیت کم ہے اور اکثر تکنیکی خرابیوں کا شکار رہتے ہیں۔
کچرے کو اٹھانے اور ری سائیکل کرنے کا بڑا کام کچرا چننے وا لے کرتے ہیں، جن کے پاس جدید آلات یا حفاظتی انتظامات نہیں ہوتے۔ لینڈ فل سائٹس سے نکلنے والی زہریلی گیسیں، آگ لگنے کے واقعات جو زہریلا دھواں پیدا کرنےکا باعث بنتے ہیں، اور زمینی پانی کی آلودگی شہریوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دارلحکومت دلی میں تقریباً 13ہزار ٹن کچرا روزانہ پیدا ہوتا ہے جسے ٹھکانے لگانے کیلئے کوئی جامع اور موثر نظام موجود نہیں۔ اگر کسی ملک کے دارلحکومت کا یہ حال ہے تو باقی شہروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button