بھارت میںکھانسی کے شربت بنانے والی کمپنیاں ضوا بط کی خلاف ورزی کررہی ہیں

نئی دہلی : بھارت میں دواسازی پر نظررکھنے والے ادارے نے کھانسی کے شربت بنانے والے ملک کے تقریباً 90 فیصد اداروں کا معائنہ کرنے کے بعد کہاہے کہ دواساز کمپنیاں بڑے پیمانے پر ضوا بط کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (DCGI) راجیو رگھوونشی نے کہا کہ سریسان فارماسیوٹیکل کی طرف سے تیار کردہ کھانسی کی ناقص شربت ”کولڈریف“کی دریافت کے بعد جو گزشتہ سال اکتوبر میں 24 بچوں کی موت کا سبب بنی ،کھانسی کے شربت بنانے والے تقریباً 1,100 یونٹس کا معائنہ کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ معائنے سے خطرناک خلاف ورزیوں کا انکشاف ہواجن میں دوا تیار کرنے کے طریقہ کار کی خلاف ورزیاں، خام مال کی صحیح جانچ میں ناکامی اور غلط یا غیر منظور شدہ جانچ کے طریقوں کا استعمال شامل ہے۔ ریگولیٹر نے اعتراف کیا کہ اصلاحی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں لیکن عملدرآمد کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی ۔تازہ ترین رپورٹ سے بھارت کی 42 ارب ڈالر کی دواسازی کی صنعت میں حفاظتی معیارات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ 2022 سے بھارت کے تیار کردہ کھانسی کے شربت کئی افریقی اور وسطی ایشیائی ممالک میں 140 سے زائدبچوں کی موت کا سبب بنی جس سے بھارتی ادویات کی برآمدات کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ریگولیٹر کی طرف سے سامنے آنے والی خامیوں سے نگرانی کے طریقہ کار اور ضوابط پر عملدرآمد کی صلاحیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیداہوئے ہیں، خاص طور پر جب زندگی بچانے والی ادویات کا معاملہ ہو۔





