اسلام آباد: مودی حکومت اپنی مسلم دشمنی سے باز نہیں آرہی ہے اور اب اس نے بنگلادیش کو بھی اپنی سازشوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت میں نریندرمودی کی زیر قیادت ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت اور گودی میڈیا مذہب کو استعمال کرکے بنگلا دیشی معاشرے میں انتشار پھیلانے کی سازش میں مصروف ہیں۔بنگلا دیش میں ہندو مظلومیت کی آڑ میں مسلم مخالف بیانیہ بنانے کی مودی کے گودی میڈیا کی کوشش بے نقاب ہو گئی ہے۔ بنگلا دیشی تنظیم” ریومر سکینر”نے گودی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا ۔ریومر سکینر کے مطابق بھارتی میڈیا نے مٹفورڈ قتل کے مقتول سوہگ کو دانستہ طور پر ہندو ظاہر کیا۔ لعل چند میاں عرف سوہگ، ایوب علی کا بیٹا اور ایک سکریپ ٹریڈر تھا۔ بھارتی میڈیا نے اسے ہندو ظاہر کرنے کی کوشش کی جبکہ سوہگ دراصل مسلمان تھا۔عوام کو گمراہ کرنے کی غرض سے بھارتی میڈیا نے جان بوجھ کر سوہگ کا مکمل نام یا اس کے والد کا نام ظاہر نہیں کیا۔ سوہگ کو 9جولائی کو ڈھاکا میں بہیمانہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔گودی میڈیا نے اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کے لیے سوہگ کو دانستہ طور پر ہندو ظاہر کیا تاکہ ہندو مظلومیت کا سہارا لیکر بنگلہ دیش میں انتشار پھیلایا جائے حالانکہ سوہگ ایک مسلمان تھا ۔مودی کا گودی میڈیا بنگلا دیش میں مذہبی بنیادوں پر دراڑیں ڈال کر مداخلت کا جواز پیدا کرنے کی سازش کررہاہے۔پاکستان میں فتن الخوارج اور فتن الہندستان کے ذریعے دہشتگردی پھیلانے کے بعد اب بنگلا دیش مودی حکومت کے نشانے پر ہے۔ بھارت اب بنگلا دیش میں بھی دہشتگردی اور انتہاپسندی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے اوربھارتی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بنگلا دیش میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت پھیلانے کی سازش ہے جو بے نقاب ہوچکی ہے۔







