”دربار مو“:سری نگر جموں شاہراہ پر سیکورٹی کے سخت اقدامات، کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ
اسلام آباد، کولگام ، پلوامہ اضلاع میں چھاپوں ، تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے ”سالانہ دربار مو“ کے سلسلے میں سرینگر جموں شاہراہ پر سیکورٹی اقدامات مزید سخت کردیے ہیں جس کی وجہ سے شاہراہ پر سفر کرنے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دربار مو کے سلسلے میں جموں میں دفاتر 30 اپریل کو بند کر دیے گئے جبکہ سری نگر میں 4 مئی سے سرکاری کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
شاہراہ کے اہم مقامات پر بھارتی فورسز کے اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ رام بن اور بانیہال کے علاقوں میں خاص طور پر گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔
مقبوضہ وادی کشمیر کے جنوبی اضلاع اسلام آباد، کولگام، پلوامہ وغیرہ میں بھی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیںاور بھارتی فورسزنے ان اضلاع کے کئی علاقوں میں بھی چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ شاہراہ مذکورہ اضلاع سے گزر کر سرینگر پہنچتی ہے۔
یاد رہے کہ دربار مو جموں و کشمیر کی ایک انتہائی پرانی انتظامی روایت ہے، جس کے تحت جموں و کشمیر کا دارالحکومت ہر چھ ماہ بعد تبدیل ہوتا ہے۔اس روایت کا آغاز 1872 میں ڈوگرہ راجہ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے کیا تھا۔ گرمیوں میں دارالحکومت سری نگر اور سردیوں میں جموں منتقل کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی سول سیکریٹریٹ، تمام سرکاری دفاتر اور ریکارڈ بھی منتقل ہوتا ہے۔ بھارت کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی انتظامیہ نے سال 2021 میں دربار مو کی اس روایت کو ختم کر دیا تھا۔ تاہم گزشتہ برس 2025میں یہ روایت بحال کر دی گئی۔







