بھارت

بھار ت میں تعلیمی نصاب کو ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کا سلسلہ جاری

گجرات یونیورسٹی کے نصاب میںمودی، آر ایس ایس اور قوم پرستی شامل

نئی دہلی : بھارت میں دیگر اداروں کی طرح تعلیمی نصاب کو بھی ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ریاست گجرات میں مہاراجہ سیاجی راو یونیورسٹی (ایم ایس یو) نے” مودی تتو“نامی ایک نیاکورس متعارف کرایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس کورس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو ایک نظریہ اور تصور کے طور پر پڑھایا جائے گا جبکہ سودیشی تعلیمی نظام، ہندو مذہب کا مطالعہ اور قوم پرستی کو تین اہم کورسز میں شامل کیا گیا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ یہ مضامین اب بی اے سماجیات کے چوتھے سال کے 10 پرچوں اور دو سالہ ایم اے سماجیات پروگرام کے پہلے سال کا حصہ ہوں گے۔”سوشیالوجی آف بھارت“،”ہندو سوشیالوجی“اور”سوشیالوجی آف پیٹریاٹزم‘ ‘نامی یہ ماڈیول چارچار کریڈٹ کے کورسز ہیں جو جون سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سیشن میں نصاب کا حصہ ہونگے۔یونیورسٹی کے مطابق اس کا مقصدتعلیمی ڈھانچے کو بھارت کی تہذیبی اورعلمی روایت، موجودہ طرز حکمرانی اور معاشرتی حقیقتوں سے جوڑنا ہے۔ نصاب تیارکرنے والے شعبہ سماجیات کے سربراہ ڈاکٹر ویریندر سنگھ نے بتایا کہ ’مودی تتو‘ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا مطالعہ ہے جو جرمن ماہرِ سماجیات میکس ویبر کے’کرشماتی اقتدار‘کے نظریے پر مبنی ہے۔راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو نصاب میں شامل کرنے کے بارے میں سوال پر ڈاکٹرسنگھ نے کہا کہ کورس میں آر ایس ایس کو صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زمینی تنظیم، سماجی رسائی اور مکالمے کے ماڈل کے طور پر پڑھایا جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button