بھارتی میڈیا کی مربوط مہم سے” مودی کی سیکورٹی“ بیانیے پر سوالات کھڑے ہوئے ہیں
لگتا ہے کہ بھارت میں مودی کو سیاسی طور پر قربان کرنے کی تیاری ہورہی ہے

نئی دہلی:بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ”را“ کے سابق سربراہ سمنت گوئل کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کو درپیش بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات اجاگرکئے جانے کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پرایک مربوط مہم چلائی جارہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کے اداروںاور بھارتی خفیہ ایجنسی سے منسلک اکاو¿نٹس کی طرف سے چلائی جارہی مہم میں کہاجارہا ہے کہ سمنت گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اور ملکی سلامتی کا ماحول انتہائی غیر مستحکم ہے۔انہوں نے مبینہ طور پر دلیل دی کہ مودی کی سیکورٹی کو کم کرنے کے بجائے اس پر نظرثانی کی جانی چاہئے اور اسے مزید مضبوط کیا جانا چاہئے اورخبردارکیاکہ وزیر اعظم کے قافلے کی سکیورٹی کم کرنے سے وہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حفاظتی انتظامات خطرے کی نوعیت پر مبنی ہونے چاہیے اور وزیراعظم کی گاڑی کی شناخت ہر وقت خفیہ رکھنی چاہیے۔سابق انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ نریندر مودی اپنی قومی سلامتی کی پالیسیوں کی وجہ سے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خطرے میں ہیں اور انہیں دشمن اور انتہا پسند عناصر نشانہ بناسکتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سمنت گوئل کا بیان منظرعام پر آگیا ، بھارتی میڈیاکے متعدد پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا اکاو¿نٹس نے بیک وقت دہشت گردی کے خطرات، مودی کے سیکورٹی خدشات اور پاکستان پر الزامات کی گردان کرنا شروع کر دیا۔سیاسی تجزیہ کار اور ناقدین سمجھتے ہیں کہ مربوط پیغام رسانی سے مہم کے پیچھے محرکات کے بارے میں سنگین سوالات پیداہوئے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ سکیورٹی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ممکنہ عدم استحکام کو پاکستان سے جوڑنے کی بار بار کوششوں کا مقصد رائے عامہ کو تشکیل دینا اور بھارت کے بڑھتے ہوئے اندرونی سیاسی اور اقتصادی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات، سفارتی دھچکے اور اندرونی تقسیم کی وجہ سے نریندر مودی کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیکیورٹی کے بیانیے کو علاقائی کشیدگی کا سیاسی فائدہ اٹھانے اور بغیر ثبوت کے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ا س مہم سے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث شروع ہوگئی ہے اور بہت سے صارفین نے بھارتی میڈیا کی اس مہم کے وقت اور مربوط نوعیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کیا مودی کو سیاسی طور پر قربان کرنے کی تیاری ہورہی ہے؟





