بڈگام میں کمسن بچی کے اغوا، بے حرمتی اور قتل کے خلاف لوگ سراپا احتجاج

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک کمسن بچی کے اغوا، بے حرمتی اور قتل کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے اوروہ سراپا احتجاج ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بڈگام کے علاقے گلوان پورہ سے تعلق رکھنے والی بچی ہفتے کی شام مقامی درسگاہ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئی۔ اس کے اہل خانہ نے رات 10 بجے کے قریب پولیس اسٹیشن بڈگام میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جس کے بعدتلاش شروع کی گئی۔ اتوارکی صبح بچی کی لاش اس کے گھر سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر ایک جگہ سے ملی جس سے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچی کو اغوا اور جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ واقعے کے خلاف خواتین بھی سڑکوں پرنکل آئیں اورسینہ کوبی کرنے لگیں۔ لوگ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔علاقے میں مکمل ہڑتال ہے، دکانیں اورکاروباری ادارے بند رہیں جبکہ معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔مقامی لوگوںنے مقبوضہ علاقے میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک جرم نہیں ہے، یہ ایک المیہ ہے جس نے کشمیر کے ضمیر کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بڈگام ہری پرساد کے کے نے کہا کہ یہ معاملہ بظاہر عصمت دری اور قتل کا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی سجاد احمد کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔لرزہ خیز واقعے نے سوشل میڈیا پربھی بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے، لوگ شدید غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں اور مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ واقعے سے مقبوضہ علاقے میں ایک بار پھر تحفظ اور انصاف کو یقینی بنانے میں حکام کی ناکامی ظاہر ہوئی ہے۔۔





