حریت رہنما حیات بٹ 6 سال بعد جموں جیل سے رہا
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبا ئوڈالیں ،حریت کانفرنس
سرینگر:
غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حریت رہنما حیات احمد بٹ کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل سے چھ سال بعد رہا کر دیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے علاقے صورہ کے رہائشی حیات احمد بٹ کو بھارتی پولیس نے اکتوبر 2019میں پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی وک تھام کے کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا تھا۔سخت کرفیو اور پابندیوں کے باوجود وہ سرینگر کے علاقے صورہ میں انکی کال پر دفعہ 370اور 35Aکی منسوخی کے خلاف اور بی جے پی کی کشمیر مخالف پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔اس وقت کے ڈی جی پولیس دلباغ سنگھ نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اور سرینگر کے متعدد علاقوں میں دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر انکے خلاف کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کیاگیا تھا۔سرینگر کی ایک مقامی عدالت نے حیات بٹ کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انکی رہائی کا حکم جاری کیا،جس کے بعد انہیں رہاکردیاگیا۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اپیل کی کہ وہ تمام کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہا ئی کے لیے بھارتی حکومت پر دبا ڈالیں ۔انہوں نے کہاکہ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر،پیر سیف اللہ ، راجہ معراج الدین کلوال ، مشتاق الاسلام، بلال صدیقی، مولوی بشیر احمد، عبدالاحد پرا، اوردیگرطویل عرصے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ طویل نظربندی کی وجہ سے گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی ضروری ہے کیونکہ مزید تاخیر سے ان کی زندگیوں کاخطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔







